شبِ برأت کی شرعی حیثیت

شبِ برأت کی شرعی حیثیت

بی کیونیوز! شبِ برأت کی شرعی حیثیت: اُمتِ مسلمہ کے جمیع مکاتبِ فکر کے فقہاء و علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو مسئلہ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں ثابت ہوجائے تو اس پر عمل واجب ہوتا ہے یا وہ سنت اور مستحب کے درجے میں ہوتا ہے۔ وہ احادیثِ مبارکہ جو شبِ برأت کی فضیلت کو اجاگر کرتی ہیں بہت سے صحابہ کرام l سے مروی ہیں ان میں حضرات سیدنا ابو بکر صدیق، سیدنا مولیٰ علی المرتضیٰ، اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، معاذ بن جبل، ابوہریرہ، ابو ثعلبہ الخشنی، عوف بن مالک، ابو موسیٰ اشعری، ابو امامہ الباہلی اور عثمان بن ابی العاص l کے نام شامل ہیں۔ سلف صالحین اور

اکابر علماء کے احوال سے پتہ چلتا ہے کہ اس رات کو عبادت کرنا ان کے معمولات میں سے تھا۔ لیکن بعض لوگ اس رات عبادت، ذکر اور وعظ و نصیحت پر مشتمل محافل منعقد کرنے کو بدعت ضلالۃ کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے جو سراسر اَحادیثِ نبوی کی تعلیمات کے خلاف ہے، اس لئے کہ اس رات کی فضیلت پر اُمت تواتر سے عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ شب برأت کی حجیت اس بات سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ شروع سے ہی صحابہ کرام، تابعین، اَتباع تابعین اور تمام اَئمہ حدیث بشمول ائمہ صحاح ستہ اکثر نے شبِ برأت کا تذکرہ کیا اور اپنی کتب حدیث میں ’بَابُ مَا جَائَ فِي لَیْلَۃِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ‘ یعنی شعبان کی پندرہویں رات کے عنوان سے مستقل ابواب بھی قائم کیے۔ شیخ الاِسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی اپنے مختلف دروسِ قرآن و حدیث اور کتابوں میں شبِ برأت کی اہمیت و فضیلت پر وارد احادیث کی حجیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’یہ بات واضح رہے کہ جب ائمہ حدیث اپنی کتاب میـں کسی عنوان سے کوئی مستقل باب قائم کرتے ہیں اور وہ باب قائم کر کے اس کے تحت کئی احادیث لاتے ہیں تو اس سے مراد محض اپنی کتاب حدیث کا ایک باب قائم کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے مقصود ان کا ایمان اور عقیدہ ہوتا ہے۔ ان کی کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، اَحمد بن حنبل، ابن خزیمہ، ابن حبان، ابن ابی شیبہ، بزار، طبرانی، بیہقی، ابن ابی عاصم، ہیثمی الغرض تمام اَئمہ حدیث کا یہی عقیدہ تھا اور اسی پر اُن کا عمل بھی تھا۔ اور اس رات وہ خود بھی اختصاص و اہتمام کے ساتھ جاگ کر عبادت کرتے، روزہ رکھتے، قبرستان جاتے اور جمیع اُمت مسلمہ کے لیے بخشش و مغفرت کی دعائیں کرتے‘‘۔

Leave a Comment