شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ اور حضورﷺ کے درمیان کن تحائف کا تبادلہ ہوا

شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ اور حضورﷺ کے درمیان کن تحائف کا تبادلہ ہوا

بی کیونیوز! شبِ معراج میں اللہ تعالیٰ اور حضورﷺ کے درمیان کن تحائف کا تبادلہ ہوا۔ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا اے میرے پیارے حبیب پاک آپ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہیں تومحبوب خدا ﷺنے جواب دیا اتحیات لللٰہ والصلوت والطیبات۔ یعنی میری تینوں قسم کی عبادتیں مالی بدنی جانی صرف آپ کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آیا السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اگر آپ تین تحفے لائے ہیں تو میری طرف سے بھی تین تحفے قبول فرمائیں۔میری طرف سے آپ کو ہمیشہ سلام پہنچے میری ہمیشہ آپ پر رحمت برستی رہے اورمیری طرف سے

تمام برکتیں آپ پر نازل ہوتی رہیں۔غرضیکہ اللہ جل شانہ نے اس مقام پر حضوراکرم ﷺ کو گوناگوں الطاف و عنایات سے نوازا اور طرح طرح کی بشارات سے مسرور فرمایا اور خاص خاص احکامات دئیے۔ آپ ﷺ کو آپ کی امت کے لیے پچاس نمازوں کا تحفہ عنایت فرمایا گیا۔ آپ ﷺ یہ تمام انعامات سے مالا مال ہوکر فرحاں و شاداں واپس لوٹے۔ چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے کیا تحفہ میں ملا آپ نے ارشاد فرمایا کہ دن و رات میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا میں اپنی امت کا تجربہ کرچکا ہوں ان پر دونمازیں فرض تھیں اور وہ انہیں بھی نہیں پڑھتے تھے۔ آپ کی امت ضعیف اور کمزور ہے اس فریضہ کو انجام نہیں دے سکے گی اس میں تخفیف کرائیں۔ آپ ﷺ دوبارہ اللہ تعالےٰ کے پاس تشریف لے گئے اللہ پاک نے پانچ نمازیں کم کردیں ۔پھر موسی ؑ کے پاس آئے انہوں نے پھر یہی کہاآپ پھر تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے پھر پانچ کم کردیں اس طرح آپ نے 9 بار درخواست کی اور 45 نمازیں معاف ہوگئیں اور صرف پانچ باقی رہ گئیں۔ اسی لیے نماز کو تحفہ معراج کہتے ہیں۔ فرمان عالی ہے الصلوۃ معراج المومنین مومنین کے لیے نماز معراج کے درجے میں ہے۔

Leave a Comment