شب براء ت کی خرافات، جن کی شریعت اسلامیہ میں قطعاً گنجائش نہیں

شب براء ت کی خرافات، جن کی شریعت اسلامیہ میں قطعاً گنجائش نہیں

بی کیونیوز! شب براء ت کی خرافات مندرجہ ذیل تمام اعمال خلافِ سنت، بدعات و خرافات اور بے اصل ہیں، جن کی شریعت اسلامیہ میں قطعاً گنجائش نہیں، مثلاً: آ ت ش با ز ی ان بدعات وخرافات میں سب سے بدترین اور ملعون رسم ”آ ت ش ب ا زی“ ہے، جو آتش پرستوں اور کفار ومشرکین کی نقل ہے، اس شیطانی رسم میں ہرسال مسلمانوں کی کروڑوں کی رقم اورگاڑھی کمائی آگ میں جل جاتی ہے، بڑی دھوم دھام سے آگ کا یہ کھیل کھیلا جاتا ہے، گویا ہم خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی نیازمندی اور عبادت واستغفار کا

تحفہ پیش کرنے کے بجائے اپنے پ ٹ اخے اور آگ پیش کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ آتش بازی کی یہ بدترین رسم تین بڑے گناہوں کا مجموعہ ہے: (الف) اسراف وفضول خرچی قرآنِ کریم میں اپنی کمائی فضولیات میں خرچ کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیاگیاہے، ارشادِ خداوندی ہے: ”اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیَاطِیْن“ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں۔ (سورئہ بنی اسرائیل:۲۷) (ب) کفار ومشرکین کی مشابہت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایاہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ (مشکوٰة شریف ص۳۷۵) یعنی جو شخص کسی قوم سے مشابہت اور ان کے طور طریق اختیار کرے گا اس کا شمار انھیں میں ہوگا؛ مگر افسوس ہے ہماری زندگی پر کہ ہر چیز میں آج ہم کو غیروں کا طریقہ ہی پسند ہے اور اپنے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے نفرت ہے۔ (ج) دوسروں کو تکلیف دینا جب پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں تو اس کی آواز سے کتنے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے اس کو ہر شخص جانتا ہے، جب کہ ہمارا مذہب اسلام ہم کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن آدمی سے کسی بھی شخص کو (مسلم ہو یا غیرمسلم) تکلیف نہیں ہونی چاہیے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الْمُوٴْمِنُ مَنْ اَمِنَہُ النَّاسُ علٰی دِمَائِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ ، (ترمذی شریف۲/۹۰) یعنی صحیح معنی میں موٴمن وہ شخص ہے جس سے تمام لوگ اپنی جانوں اور مالوں پر مامون اور بے خوف وخطر رہیں، یہاں تک کہ جانوروں کو تکلیف دینا بھی انتہائی مذموم، شدید گناہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب قرار دیاگیا ہے۔ (صحیح بخاری ۲/۸۲۸، صحیح مسلم حدیث ۱۹۵۸، کتاب الصید والذبائح) حاصل یہ ہے کہ صرف ”آتش بازی“ کی ایک رسم کئی بدترین اور بڑے گناہوں کا مجموعہ ہے، جو کسی بھی طرح مسلم معاشرے میں رواج پانے کے لائق نہیں؛ بلکہ پہلی فرصت میں قابلِ ترک ہے۔ چراغاں کرنا شبِ براء ت کے موقع پر بعض لوگ گھروں، مسجدوں اور قبرستانوں

میں چراغاں کرتے ہیں، یہ بھی اسلامی طریقے کے خلاف ہے اور غیرمسلموں کے تہوار دیوالی کی نقل اور مشابہت ہے۔ علامہ بدرالدین عینی نے لکھاہے کہ: چراغاں کی رسم کا آغاز یحییٰ بن خالد برمکی سے ہوا ہے، جو اصلاً آتش پرست تھا، جب وہ اسلام لایا تو اپنے ساتھ یہ آگ اور چراغ کی روشنی بھی لایا، جو بعد میں مسلم سوسائٹی میں داخل ہوگیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس کو مذہبی رنگ دے دیاگیا۔ (عمدة القاری ۱۱/۱۱۷) اسی طرح غیرمسلموں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے یہ رسم ہم نے اسلام میں داخل کرلی اور غیروں کی نقالی کرنے لگے، جب کہ غیروں کی نقل ومشابہت پر سخت وعید آئی ہے جس کو اوپر بیان کردیاگیا۔ (۳) حلوہ پکانا شبِ براء ت میں بعض لوگ حلوہ بھی پکاتے ہیں؛ حالاں کہ اس رات کا حلوے سے کوئی تعلق نہیں۔ آیات کریمہ، احادیث شریفہ، صحابہٴ کرام کے آثار، تابعین و تبع تابعین کے اقوال اور بزرگانِ دین کے عمل میں کہیں اس کا تذکرہ اور ثبوت نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شیطان نے یہ سوچا کہ اس رات میں عبادت واستغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ لا تعداد لوگوں کی مغفرت فرمائے گا اور ان کی نیکیوں میں اضافہ ہوگا تو مجھ سے یہ بات کیسے برداشت ہوگی؛ اس لیے اس نے مسلمانوں کو ان خرافات میں پھنسا کر سنّت طریقے سے دور کردیا۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک جب شہید ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ نوش فرمایاتھا، یہ بات بالکل من گھڑت اور بے اصل ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دندانِ مبارک غزوئہ احد میں شہید ہوئے تھے، اور غزوئہ احد ماہِ شوال میں پیش آیا تھا، جب کہ حلوہ شعبان میں پکایا جاتا ہے، دانت ٹوٹنے کی تکلیف ماہِ شوال میں اور حلوہ کھایا گیا دس مہینے بعد شعبان میں، کس قدر بے ہودہ اور باطل خیال ہے! (۴) گھروں کا لیپنا پوتنا، نئے کپڑے بدلنا اوراگربتی وغیرہ جلانا شبِ براء ت کے موقع پر گھروں کی لپائی پوتائی اور نئے کپڑوں کی تبدیلی کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، نیز گھروں میں اگربتی جلاتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس رات میں مردوں کی روحیں گھروں میں آتی ہیں، ان کے استقبال میں ہم ایسا کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ بالکل فاسد اور مردود ہے، یہ عقیدہ رکھنا جائز نہیں؛ لہٰذا ان بدعتوں سے بھی احتراز لازم ہے۔ (۵) مسور کی دال پکانا یہ بھی بے ہودہ رسم ہے۔ غرض یہ تمام رسمیں خرافات اور بے اصل ہیں، جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں؛ لہٰذا ان سب چیزوں سے احتراز لازم ہے، ہماری کامیابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں ہی مضمر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: کُلُّ اُمَّتِی یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ اِلاَّ مَنْ اَبٰی، قَالُوْا: وَمَنْ یَّأبٰی؟ قَالَ مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ اَبٰی (بخاری شریف ۲/۱۰۸۱، حدیث ۷۲۸۰) یعنی میری امت کا ہر ہر فرد جنت میں داخل ہوگا؛ مگر جو انکار کرے گا اور بات نہیں مانے گا وہ جنت سے دور رہے گا، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! انکار کون کرسکتا ہے؟ ارشاد ہوا: جو شخص میری اطاعت و فرماں برداری کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو نافرمانی کرے گا اس نے گویا انکار کردیا، جس کی وجہ سے وہ جنت سے محروم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ پوری امت کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور بدعات وخرافات سے حفاظت فرماکر اتباعِ سنت کے جذبے سے مالامال فرمائے!آمین ثم آمین

Leave a Comment