ظا-لم جب تک ظ-لم نہیں چھوڑتا، اس کے حق میں کوئی دعا قبول نہیں ہوتی

ظالم جب تک ظلم نہیں چھوڑتا، اس کے حق میں کوئی دعا قبول نہیں ہوتی

بی کیونیوز! کوئی شخص روزی اپنی لیاقت اور طاقت سے نہیں حاصل کرتا۔ اللہ سب کا رازق ہے۔ بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو بھی خدا کے سامنے جھکے بغیر چارہ نہیں۔ خداوند تعالٰی متحمل بھی ہے اور رحیم و کریم بھی۔ وہ گن-اہ گاروں کو توبہ کے لئے مہلت دیتا ہے۔ توبہ کرنے والوں کو دامن رحمت میں ڈھانپ لیتاہے۔ نطفے کو خوبصورت انسان بنا دینا اللہ تعالٰی کی قدرت کا اعجاز ہے۔ پانی کی بوند پر ایسے نقش و نگار کوئی نہیں بناسکتا۔ جب تو خدا سے مغفرت وعطا کا طالب ہے تو جن لوگوں کی امیدیں تیری ذات سے

وابستہ ہیں تو انہیں بھی محروم و مایوس نہ کر۔ جیسا سلوک تو مخلوق خدا سے کرے گا ویسا ہی سلوک خدا تیرے ساتھ کرے گا۔ حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہو اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو۔ جس مظ-لوم کو بادشاہ سے انصاف نہ مل سکے اسے خدا انصاف دلاتا ہے آخرت میں نیکیوں کے مطابق مرتبے ملتے ہیں اس لئے نیکی کرو۔ جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتاہے پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے۔ مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے۔ ہمت سے اس کامقابلہ کرنا چاہئے۔ ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔ احساس کیا ہے؟ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا۔ منصف اور عادل کو اللہ اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا، آدمی وہ ہے جس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے، ورنہ پتھر ہے۔ نیکی کرنے والا نیکی کا صلہ ضرور پاتا ہے، بے رحم انسان نہیں درندہ ہے۔ نیک نیت کی وجہ سے کام نیک اور بری نیت کی بدولت برا ہوجاتاہے۔ مظ-لوم کی تکلیف تو چند ساعت کی ہوتی ہے مگر ظا-لم ابدی مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ نصیحت اگرچہ ناخوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتاہے۔ ظا-لم جب تک ظ-لم نہیں چھوڑتا اس کے حق میں کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔ دنیا بے وفا اور انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتاہے جو اسے مخلوق خدا کی اصلاح اور فلاح میں لگا دیتاہے۔ دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی

Leave a Comment