(مہد سے لحد تک) مسلمان عورت کی زندگی کے چار اہم دور

( مہد سے لحد تک) مسلمان عورت کی زندگی کے چار اہم دور

بی کیونیوز! عورت کی زندگی کے راستہ میں یوں تو بہت سے موڑ آتے ہیں مگر اس کی زندگی کے چار دور خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ عورت کا بچپن عورت بالغ ہونے کے بعد عورت بیوی بن جانے کے بعد عورت ماں بن جانے کے بعد اب ہم عورت کے ان چاروں زمانوں کا اور ان وقتوں میں عورت کے فرائض اور ان کے حقوق تحریر کرتے ہیں۔ تاکہ ہر عورت ان حقوق و فرائض کو ادا کرکے اپنی زندگی کو دنیا میں بھی خوشحال بنائے اور آخرت میں بھی جنت کی لازوال نعمتوں اوردولتوں سے سر فراز ہو کر مالا مال ہو جائے۔

(۱) عورت کا بچپن عورت بچپن میں اپنے ماں باپ کی پیاری بیٹی کہلاتی ہے اس زمانے میں جب تک وہ نا بالغ بچی رہتی ہے شریعت کی طرف سے نہ اس پر کوئی چیز فرض ہوتی ہے نہ اس پر کسی قسم کی ذمہ داریوں کا کوئی بوجھ ہوتا ہے۔ وہ شریعت کی پابندیوں سے بالکل آزاد رہتی ہے اور اپنے ماں باپ کی پیاری اور لاڈلی بیٹی بنی ہوئی کھاتی پیتی’ پہنتی اوڑھتی اور ہنستی کھیلتی رہتی ہے۔ اور وہ اس بات کی حقدار ہوتی ہے کہ ماں باپ’ بھائی بہن اور سب رشتہ ناتا والے اس سے پیارو محبت کرتے رہیں۔ اور اس کی دل بستگی اور دل جوئی میں لگے رہیں۔ اور اس کی صحت و صفائی اور اس کی عافیت اور بھلائی میں ہر قسم کی انتہائی کوشش کرتے رہیں۔ تاکہ وہ ہر قسم کی فکروں اور رنجوں سے فارغ البال اور ہر وقت خوش و خرم اورخوشحال رہے۔ جب وہ کچھ بولنے لگے تو ماں باپ پر لازم ہے کہ اس کو اﷲ و رسول ﷺ کا نام سنائیں پھر اس کو کلمہ وغیرہ پڑھائیں جب وہ کچھ اور زیادہ سمجھدار ہو جائے تو اس کو صفائی ستھرائی کے ڈھنگ اور سلیقے سکھائیں۔ اس کو نہایت پیار ومحبت اور نرمی کے ساتھ انسانی شرافتوں کی باتیں بتائیں اور اچھی اچھی باتوں کا شوق اور بری باتوں سے نفرت دلائیں جب پڑھنے کے قابل ہو جائے تو سب سے پہلے اس کو قرآن شریف پڑھائیں۔ جب کچھ اور زیادہ ہوشیار ہو جائے تو اس کو پاکی و ناپاکی وضووغسل وغیرہ کا اسلامی طریقہ بتائیں۔ اور ہر بات اور ہر کام میں اس کو اسلامی آداب سے آگاہ کرتے رہیں۔ جب وہ سات برس کی ہو جائے تو اس کو نماز وغیرہ ضروریات دین کی باتیں تعلیم کریں۔ اور پردہ میں رہنے کی عادت سکھائیں اور برتن دھونے’ کھانے پینے’ سینے پرونے اور چھوٹے موٹے گھریلو کاموں کا ہنر بتائیں اور عملی طور پر

اس سے یہ سب کام لیتے رہیں۔ اور اس کی کاہلی اور بے پروائی اور شرارتوں پرروک ٹوک کرتے رہیں اور خراب عورتوں اور بد چلن گھرانوں کے لوگوں سے میل جول پر پابندی لگادیں اور ان لوگوں کی صحبت سے بچاتے رہیں۔ عاشقانہ اشعار اور گیتوں اورعاشقی معشوقی کے مضامین کی کتابوں سے، گانے بجانے اور کھیل تماشوں سے دور رکھیں تاکہ بچیوں کے اخلاق و عادات اور چال چلن خراب نہ ہو جائیں۔ جب تک بچی بالغ نہ ہو جائے ان باتوں کا دھیان رکھنا ہر ماں باپ کا اسلامی فرض ہے۔ اگر ماں باپ اپنے ان فرائض کو پورا نہ کریں گے تو وہ سخت گن-اہ گار ہوں گے۔ (۲) جب عورت بالغ ہو گئی تو اﷲ و رسول جل جلالہ و ﷺ کی طرف سے شریعت کے تمام احکام کی پابند ہو گئی۔ اب اس پر نماز’ روزہ اور حج و زکوٰۃ کے تمام مسائل پر عمل کرنا فرض ہو گیا اور اﷲ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کو ادا کرنے کی وہ ذمہ دار ہو گئی اب اس پر لازم ہے کہ وہ خدا کے تمام فرضوں کو ادا کرے اور چھوٹے بڑے تمام گناہوں سے بچتی رہے۔اور یہ بھی اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ماں باپ اور بڑوں کی تعظیم و خدمت بجا لائے اور اپنے چھوٹے بھائیوں بہنوں اور دوسرے عزیزواقارب سے پیارو محبت کرے۔ پڑوسیوں اور رشتے ناتے کے تمام چھوٹوں’ بڑوں کے ساتھ ان کے مراتب و درجات کے لحاظ سے نیک سلوک اور اچھا برتاؤ کرے۔ اچھی اچھی عادتیں سیکھے اور تمام خراب عادتوں کو چھوڑ دے اور اپنی زندگی کو پورے طور پر اسلامی ڈھانچے میں ڈھال کر سچی پکی پابند شریعت اور ایمان والی عورت بن جائے اور اس کے ساتھ ساتھ محنت و مشقت اور صبر و رضا کی عادت ڈالے مختصریہ کہ شادی کے بعد اپنے اوپر آنے والی تمام گھریلو ذمہ داریوں کی معلومات حاصل کرتی رہے کہ

شوہر والی عورت کو کس طرح اپنے شوہر کے ساتھ نباہ کرنا اور اپنا گھر سنبھالنا چاہے وہ اپنی ماں اور بڑی بوڑھی عورتوں سے پوچھ پوچھ کر اس کا ڈھنگ اور سلیقہ سیکھے اور اپنے رہن سہن اور چال چلن کو اس طرح سدھارے اور سنوارے کہ نہ شریعت میں گن-اہ گار ٹھہرے نہ برادری و سماج میں کوئی اس کو طعنہ مارسکے۔ کھانے پینے’ پہننے اوڑھنے’ سونے جاگنے’ بات چیت غرض ہر کام ہر بات میں جہاں تک ہو سکے خود تکلیف اٹھائے مگر گھر والوں کو آرام و راحت پہنچائے۔ بغیر ماں باپ کی اجازت کے نہ کو ئی سامان اپنے استعمال میں لائے نہ کسی دوسرے کو دے۔ نہ گھر کا ایک پیسہ یا ایک دانہ ماں باپ کی اجازت کے بغیر خرچ کرے۔ نہ بغیر ماں باپ سے پوچھے کسی کے گھر یا ادھر ادھر جائے۔ غرض ہر کام’ ہر بات میں ماں کی اجازت اور رضامندی کو اپنے لئے ضروری سمجھے۔ کھانے’ پینے’ سینے پرونے’ اپنے بدن’ اپنے کپڑے اور مکان و سامان کی صفائی غرض سب گھریلو کام دھندوں کا ڈھنگ سیکھ لے اور اس کی عملی عادت ڈال لے تا کہ شادی کے بعد اپنے سسرال میں نیک نامی کے ساتھ زندگی بسر کر سکے اور میکے والوں اور سسرال والوں کے دونوں گھر کی چہیتی اور پیاری بنی رہے۔ پردہ کا خاص طور پر خیال اور دھیان رکھے۔ غیر محرم مردوں اور لڑکوں کے سامنے آنے جانے’ تاک جھانک اور ہنسی مذاق سے انتہائی پرہیز رکھے۔ عاشقانہ اشعار’ اخلاق کو خراب کر نے والی کتابوں اور رسائل و اخبارات کو

ہر گز نہ دیکھے بد کردار اور بے حیاء عورتوں سے بھی پردہ کرے اور ہر گز کبھی ان سے میل جول نہ رکھے کھیل تماشوں سے دور رہے اور مذہبی کتابیں خصوصاََ سیرت المصطفیٰ و سیرت رسول عربی’ تمہید ایمان اور میلاد شریف کی کتابیں مثلاََ ”زینۃ المیلاد ”وغیرہ علمائے اہلسنّت کی تصنیفات پڑھتی رہے۔ فرض عبادتوں کے ساتھ نفلی عبادتیں بھی کرتی رہے۔ مثلاََ تلاوت قرآن و تسبیح فاطمہ میلاد شریف پڑھتی پڑھاتی رہے اور گیارھویں شریف و بارھویں شریف و محرم شریف وغیرہ کی نیاز و فاتحہ بھی کر تی رہے کہ ان اعمال سے دنیا و آ خرت کی بے شمار برکتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ ہر گز ہر گز ان کی بات نہ سنے اور اہل سنت و جماعت کے عقائد و اعمال پر نہایت مضبوطی کے ساتھ قائم رہے۔ (۳) عورت شادی کے بعد نکاح:۔ جب لڑکی بالغ ہو جائے تو ماں باپ پر لازم ہے کہ جلد ازجلد مناسب رشتہ تلاش کر کے اس کی شادی کردیں۔ رشتہ کی تلاش میں خاص طور سے اس بات کا دھیان رکھنا بے حد ضروری ہے کہ ہر گز ہر گز کسی بد مذہب کے ساتھ رشتہ نہ ہونے پائے بلکہ دیندار اور پابند شریعت اور مذہب اہلسنّت کے پابند کو اپنی رشتہ داری کے لئے منتخب کریں بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ عورت سے شادی کرنے میں چار چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ دولتمندی خاندانی شرافت خوبصورتی دینداری ”لیکن تم دینداری کو ان سب چیزوں پر مقدم سمجھو۔” (1) اولاد کی تمنا اور اپنی ذات کو بدکاری سے بچانے کی نیت کے لئے نکاح کر نا سنت ہے اور بہت بڑے اجر و ثواب کا کام ہے اﷲتعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا کہ۔ وَ اَنۡکِحُوا الْاَیَامٰی مِنۡكُمْ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ ؕ ”یعنی تم لوگ بے شوہر والی عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے نیک چلن

غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کر دو۔” (2) حدیث شریف میں ہے کہ توراۃ شریف میں لکھا ہے کہ ”جس شخص کی لڑکی بارہ برس کی عمر کو پہنچ گئی اور اس نے اس لڑکی کا نکاح نہیں کیا اور وہ لڑکی بدک-اری کے گن-اہ میں پڑگئی تو اس کا گناہ لڑکی والے کے سرپر بھی ہوگا۔”(3) دوسری حدیث میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ۔ ”اﷲ تعالیٰ نے تین شخصوں کی امداد اپنے ذمہ کرم پر لی ہے۔ (۱)وہ غلام جو اپنے آقا سے آزاد ہونے کے لئے کسی قدر رقم ادا کرنے کا عہد کرے اور اپنے عہد کو پورا کرنے کی نیت رکھتا ہو۔ (۲) خدا کی راہ میں جہ-اد کرنے والا (۳) وہ نکاح کرنے والا یا نکاح کرنے والی جو نکاح کے ذریعہ حرام کاری سے بچنا چاہتا ہو۔”(4) عورت’ جب تک اس کی شادی نہیں ہوتی وہ اپنے ماں باپ کی بیٹی کہلاتی ہے مگر شادی ہو جانے کے بعد عورت اپنے شوہر کی بیوی بن جاتی ہے اور اب اس کے فرائض اور اس کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں وہ تمام حقوق و فرائض جو بالغ ہونے کے بعد عورت پر لازم ہو گئے تھے اب ان کے علاوہ شوہر کے حقوق کا بھی بہت بڑا بوجھ عورت کے سر پر آجاتا ہے جس کا اداکرنا ہر عورت کے لئے بہت ہی بڑا فریضہ ہے۔ یاد رکھو کہ شوہر کے حقوق کو اگر عورت نہ ادا کرے گی تو اس کی دنیاوی زندگی تب-اہ و برباد ہوجائے گی اور آخرت میں وہ دو-ز-خ کی بھڑکتی ہوئی آ-گ میں جلتی رہے گی اور اس کی قب-ر میں سا-نپ بچ-ھو اس کو ڈ-ستے رہیں گے اور دونوں جہاں میں ذلیل و خوار اور طرح طرح کے عذ-ابوں میں گرفتار رہے گی۔ اس لئے شریعت کے حکم کے مطابق ہر عورت پر فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق کو ادا کرتی رہے اور عمر بھر اپنے شوہر کی فرماں برداری و خدمت گزاری کرتی رہے۔ (۴) عورت ماں بن جانے کے بعد عورت جب صاحب اولاد اور بچوں کی ماں بن جائے تو اس پر مزید ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے کیونکہ شوہر اور والدین وغیرہ کے حقوق کے علاوہ بچوں کے حقوق بھی عورت کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں جن کو ادا کرنا ہر ماں کا فرض منصبی ہے۔ جو ماں اپنے بچوں کا حق ادا نہ کرے گی یقیناً وہ شریعت کے نزدیک بہت بڑی گن-اہگار’ اور سماج کی نظروں میں ذلیل و خوار ٹھہرے گی

Leave a Comment