عید الاضحٰی کی نماز پڑھنے کا طریقہ

عید الاضحٰی کی نماز پڑھنے کا طریقہ

بی کیونیوز! پہلے نیت کریں، نیت کی میں نے دو رکعت نماز عید الاضحی کی زائد چھ تکبیروں کے ساتھ منہ میرا کعبہ شریف کی طرف واسطے اللہ تعالی کے پیچھے اس امام کے. اللہ اکبر ۔ اب امام ہاتھ باندھ کرثنا پڑھےگا ہمیں بھی نیت اور تکبیر کہ کے ہاتھ باندھ لینا ہے اور ثنا پڑھنا ہے اس کے بعد تین زائد تكبيریں ہوں گی. پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے. دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے. تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر باندھ لینا ہے اسكے بعد

امام قرآت کرےگا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے گااور رکوع سجدہ کرکے پہلی رکعت مکمل ہوگی. دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی امام قرآت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھےگا اس کے بعدرکوع میں جانے سے پہلے زائد تینوں تكبيرے ہوں گی. پہلی تکبیر کہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے. دوسری تکبیر كہہ كر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑدینا ہے. تيسری تکبیر کہہ کر ہاتھ کانوں تک اٹھا کر چھوڑ دینا ہے یہاں تک زائد تكبيریں مکمل ہوگئیں. اب اس کے بعد بغیر ہاتھ اٹھاے تکبیر کہہ کر رکوع میں جاینگے. اور بس آگے کی نماز دوسری نمازوں کی طرح پڑھنا ہے پھر سلام پھیر دینا ہے. نماز عید سے متعلق چند اہم مسائل عید کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے: اگر کوئی شخص نماز عید کی جماعت میں نہ پہنچ سکا تو اکیلے اس کی قضاء نہیں پڑھ سکتا، البتہ اگر گھر لوٹ کر چار رکعت نفل پڑھ لے تو بہتر ہے۔ کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی: اگر کئی آدمیوں کی نماز عید رہ گئی تو کسی دوسری مسجد یا عید گاہ میں جہاں پہلے عید کی نماز نہ ہوئی ہو اپنی الگ جماعت کر کے نماز عید پڑھ سکتے ہیں، ایسی مسجد یا عید گاہ نہ ملے تو کسی دوسری جگہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ جس کی تکبیرات رہ گئیں: جو شخص امام کے تکبیرات سے فارغ ہو کر قراء ت شروع کرنے کے بعد پہنچا وہ نیت باندھ کر پہلے زائد تکبیرات کہہ لے۔ امام کو رکوع میں پایا تو اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ نہ ہو تو پہلے زائد تکبیرات کہے، پھر رکوع میں جائے اور اگر رکوع نکل جانے کا اندیشہ ہو تو تکبیرۂ تحریم کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور ہاتھ اٹھائے بغیر رکوع ہی میں تینوں تکبیرات کہہ لے اور رکوع کی تسبیح ’’سبحان ربی العظیم‘‘ بھی پڑھ لے، دونوں کا جمع کرنا ممکن نہ ہو تو صرف تکبیرات کہے، تسبیحات چھوڑ دے، تکبیرات واجب اور تسبیحات سنت ہیں، اگر تکبیرات پوری کہنے سے پہلے ہی امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو بقیہ تکبیرات چھوڑ کر امام کا اتباع کرے۔ امام کو دوسری رکعت کے رکوع میں پایا: اگر امام کو دوسری رکعت میں پایا تو بعینہ وہی تفصیل ہے جو اوپر درج کی گئی۔ البتہ امام کے سلام کے بعد جب فوت شدہ رکعت ادا کرے گا تو پہلے قراء ت کرے، پھر

تکبیرات کہے۔ جس کی دونوں رکعتیں نکل گئیں: اگر کسی کی دونوں رکعتیں نکل گئیں، سلام سے پہلے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوگیا تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اٹھ کر حسب قاعدہ دونوں رکعتیں پڑھے اور تکبیرات اپنے اپنے مقام پر یعنی پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قراء ت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے کہے۔ دوسری رکعت میں تکبیرات کو قراء ت سے مؤخر کرنا واجب نہیں: دوسری رکعت میں تکبیرات زائدہ کو قراء ت سے مؤخر کرنا اولی ہے، واجب نہیں، لہٰذا اگر امام نے غلطی سے یہ تکبیرات قراء ت سے پہلے کہہ دیں تو بھی نماز بلا کراہت ہوگئی۔ امام تکبیرات بھول کر رکوع میں چلا گیا: اگر امام تکبیرات زائدہ بھول کر رکوع میں چلا گیا تو یاد آنے پر رکوع ہی میں یہ تکبیرات کہہ لے، رکوع چھوڑ کر قیام کی طرف نہ لوٹے لیکن اگر امام رکوع چھوڑ کر لوٹ آیا اور تکبیرات کہہ کر پھر رکوع کرلیا تو بھی نماز ہو جائے گی۔ نمازِ عید میں سجدہ سہو: عام نمازوں کی مانند جمعہ و عیدین میں بھی ترک واجب و تأخیر فرض سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، لیکن نماز جمعہ و عیدین میں بلکہ کسی بھی نماز میں مجمع بہت زیادہ ہو اور سجدۂ سہو کرنے سے لوگوں میں فساد و انتشار کا اندیشہ ہو تو بہتر ہے کہ سجدۂ سہو نہ کیا جائے۔ جو شخص بیرون ملک نماز عید پڑھ کر آیا: اگر کوئی شخص کسی بیرونی ملک میں نماز عید پڑھ کر آیا تو وہ پاکستان پہنچ کر نماز عید کی امامت کرسکتا ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ عید کی امامت نہ کرے بلکہ بصورت اقتداء نماز عید ادا کرے.

Leave a Comment