قبرکا عذاب بڑا سخت ہو گا، قبر کی وحشت سےنجات کا وظیفہ

قبرکا عذاب بڑا سخت ہو گا، قبر کی وحشت سےنجات کا وظیفہ

بی کیو نیوز! مسلمان کا عقیدہ ہےکہ مرنے کے بعد اللہ کے پاس جانا ہے۔ مرنےکے بعد جو پہلی منزل ہے وہ ہے قبر۔ اور مسلمان کا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد اس سے تین سوال کیا جائے گے۔ تیرا رب کون ہے، تیرا نبی کون ہےاور تیر ا دین کیا ہے۔ اگر تو اس نے ان تین سوالوں کا جواب دے دیے تو قبر روشن بن جائے گی اور جنت کا باغ ملے گا۔ اگر خدانخوستہ ان تین سوالوں کا جواب نہ دے پا یا تو قبر وحشت ہو جائے گی۔ اور سانپ اور بچھو چھوڑ دیے جائیں گے۔ اور یہ وحشت

ایسی ہوگی جس کا ذکر الفاظ میں نہیں کھڑے ہوتے تو اتنے اشکبار ہوجاتے کہ آپ کی داڑھی بھی تر ہو جاتی۔ آپ رضی اللہ سے کہا گیا آپ جنت اور جہنم کو دیکھ کر اتنا نہیں روتے جتنا قبر کے دیکھ کر رو پڑتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرمﷺ سے سنا ہے کہ قبر آخرت کی آخری منزل ہے اگر کوئی اس سے بچ گیا تو اس کے بعد والے مراحل آسان ہیں۔ اگر اس سے نہ بچ سکا تو اس کے بعد والے مراحل سے بچنا بہت مشکل ہے۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ نے یہ بھی کہا کہ آپﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کی قسم میں جتنا بھی خوفناک منظر دیکھ لوں قبر کا منظر اس سے بھی خطرناک ہوگا۔ لوگوں کا آخرت پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہےفرمان ہےکہ :”بے شک قبر کہ وہ قبرکی حقیقت پر بھی ایمان ہو۔ حضوراکرمﷺ نے فرمایا کی جو شخص روزانہ سو مرتبہ لاَ اِلہُ الاَّ اللہُ الْماَلِکُ الْلحَقُ الْمُبیْن پڑھے گا تو اس کو فقروتنگدستی سے نجا ت ملے گی اور قبر کی وحشت سے نجات ملے گی۔ مال ودولت سے نوازا جائےگا اور جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔ جو خداکی نعمتوں کا شکر ادا کرے گا۔ خدااس کی نعمتوں کو زیادہ کرے گا۔ جو کفر ادا کرےگا ۔ خدااس کو قبر کی وحشت میں ڈالے گا۔ نعمت کا شکر کیسے ادا ہوتا ہےوہ مالی حقوق ادا کرکے، ہمسائے کا خیال رکھ کر، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق اداکرکےاور زکوٰۃ ادا کرکے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ جو شخص روزانہ سونے سے پہلے سورۃالملک کی تلاوت کرے گاتو اس کی عذابِ قبر سے حفاظت ہوگی۔ اور بعض روایت میں بعد نمازِمغرب میں تلاوت کرنے کی تاکید ملتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ سونے سے پہلے اس سورت کی تلاوت لازمی کرے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اسے عذابِ قبر سے محفوظ فرمائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں دین کی سمجھ عطاء فرمائے۔ اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق فرمائے۔ آمین۔بہشتی ہے” اگر قبر عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس ایک یہودی عورت آئی تو اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور

عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہنے لگی کہ اللہ تعالی آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں عذاب قبر ہے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے دیکھا ۔صحیح البخاری ( الجنائز حدیث نمبر 1283) صحیح مسلم ( الکسوف حدیث نمبر 903)مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے عذاب قبر کا ثبوت ملتا ہے اور ان سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کو عذاب مسلسل مل رہا ہے۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی عذاب قبر کے متعلق فرماتے ہیں کہ :اگر انسان کافر ہے اللہ تعالی اس سے بچا کے رکھے تو وہ کبھی بھی نعمتوں کو نہیں پا سکتا اور اسے مسلسل عذاب ہو گا لیکن اگر وہ مومن اور گنہگار ہے تو اسے قبر میں عذاب اس کے گناہ کے حساب سے ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے اس برزخ سے جو کہ اس کی موت اور قیامت تک ہے گناہوں کا عذاب کم ہو تو اس وقت منقطع ہو گا ۔اھ شرع الممتع جلد نمبر 3 صفحہ نمبر25کے بیچ میں سے کوئی بچ پاتا تو وہ سعد بن معاذ ہوتے

Leave a Comment