قرآن مجیدکی روشنی میں کسی مسلمان کو قرض دینے کا اسلامی طریقہ کار،علم وحکمت سےبھری زبردست تحریر

بی کیونیوز! سورہ آل عمران میں سود سے منع فرمایا تو اس کے فورا بعد انفاق کی ترغیب دی گویا متبادل پھر انفاق فی سبیل اللہ ـ [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (130) وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ (131) وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (132)وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (134) وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135) أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُم مَّغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (136)

آل عمران علماء مدارس اور مساجد کے لئے انفاق کی ترغیب دیتے ہیں تو عوام خزانوں کا منہ کھول دیتے ہیں اور قلعہ نما جامعات منظر عام پر آ جاتی ہیں جو بنانے والوں کی نسل در نسل ذاتی پراپرٹی ہوتی ہیں۔ اگر یہی علماء عوام کو ان کے رشتے داروں کے مسائل حل کرنے کی ترغیب دیں تو کیا عوام عمل نہ کرتے؟ کیا قربانی دینے والوں کی کھال کے حقدار ان کے غریب رشتے دار نہیں؟ کیا ان کی زکوۃ المال اور صدقہ فطر کے حقدار ان کے غریب رشتے دار نہیں؟ ان بزرگوں نے سارے خزانوں کے رخ اپنی درسی جاگیروں کی طرف موڑ دیئے ہیں اور عوام پر سود کھانے کے فتوے لگاتے ہیں۔ یعنی ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔ سیاستدان بھی پیسہ ملک سے باھر لے گئے جبکہ علماء نے زکوۃ و صدقات وفطرانے اور قربانیوں کا رخ اپنے مدارس اور مساجد کی طرف کر لیا اور مارا گیا معاشرے کا غریب، حالانکہ قرآن کی رو سے زکوہ و صدقات کے اولیں حقدار مدارس و جامعات نہیں بلکہ فقراء اور مساکین ہیں، مدارس کا نمبر ساتواں ہے۔ اور ساتویں میں بھی بمشکل ان کو تلاش کیا جا سکتا ھے،[فی سبیل اللہ ]کی مد بہت وسیع ہے، جہاد و قتال بھی اسی میں شامل ھے، سڑکیں بنانا، تالاب اور کنوئیں بنانا، اسپتال میں کوئی کمرہ بنوا دینا، اولڈ ہاوسز بنا دینا جیسا کہ ایدھی نے بنا رکھے تھے سب اسی میں شامل ہے، ایدھی سے بیر اور کینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے مدارس کا ’’ حق ‘‘ مارا ھوا تھا ـ [ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (60) التوبہ اس کے علاوہ سی بی آر والوں کی طرح کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے نیٹ میں پھنسیں ، نبئ کریم ﷺ کے فرمان اور عمل کے مطابق ایک گھر کے لئے ایک ہی قربانی کافی ھے چاہے اس بندے کے دس بچے اور چار بیویاں ہوں ، قربانی فی گھر ھے فی بندہ نہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنی اور اپنی ازواج کی طرف سے کہ جن کی تعداد ۹ تھی ایک ہی قربانی دیتے تھے اور ایک قربانی قیامت تک اپنی پوری امت کے فقراء کی طرف سے دیتے تھے،

مگر یہ کہتے ہیں کہ میاں الگ سے قربانی دے اور اگر بیوی کا زیور ساڑھے سات تولے سونے سے زیادہ ھے تو وہ الگ سے دے اور اگر بچے کماتے ہیں تو وہ الگ سے دیں جبکہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قربانی زکوۃ نہیں ہے کہ تم اس کے لئے نصاب کا پیمانہ لے کر چڑھ دوڑے ھو قربانی تو محبت کا اظہار اور نفلی عبادت ہے ، اس کا نصاب کے ساتھ کیا تعلق ؟ یہ تو دینا چاہے تو ادھار لے کر بھی دے سکتا ھے جس دیگر محبوب ہستیوں کے لئے ادھار لے کر خرچ کر لیتا ہے ، یہ صرف اور صرف کھال و مال کی خاطر زیادہ سے زیادہ قربانیاں دلواتے ہیں ،اگر فی گھر ایک قربانی ھو اور باقی پیسوں سے انہی لوگوں کے غریب رشتے داروں کی کفالت ھو ، بچوں کی فیس ادا ھو ، مریضوں کو علاج کے پیسے ملیں تو معاشرہ اس دلدل سے نکلے جہاں ھر روز لوگ بھوک سے خودکشی کر رھے ہیں اور سود پر پیسہ لینے پر مجبور ھو رھے ہیں

Leave a Comment