قرآن مجید کے پارہ 4 کا خلاصہ

قرآن مجید کے پارہ 4 کا خلاصہ

بی کیونیوز! قرآن مجید کے پارہ 4 کا خلاصہ محبوب چیز اللّٰہ کے لیئے، اللّٰہ سے محبت کے دھوکے کو کرنے کے لیئے اپنی محبوب چیز اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنا، مقام ابراہیم، حضرت ابراہیم کا اللّٰہ کے گھر کی تعمیر میں نیند اور آرام کو قربان کرنا، حج بیت اللّٰہ ،اللّٰہ کے گھر کی طرف رغبت رکھنا۔ استطاعت ہو تو زندگی میں ایک بار لازمی اور پانچ سال میں ایک بار خوشی سے جانا، اللّٰہ سے ڈرنے کا حق ،ساری زندگی اللّٰہ کی فرمانبرداری میں گزارنا اور حالت اسلام میں موت آنا، اللّٰہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا، اللّٰہ کی رسی یعنی قرآن مجید پر جمع ہونا اور

افتراق اور اختلاف سے بچنا، خیر کی طرف دعوت ،قرآن، اس کے احکام اور نیکی کی طرف لوگوں کو بلانا، بہترین امت کی علامت، اپنے اردگرد لوگوں کی فکر کرنا، نیکی کی طرف دعوت دینا اور برائی سے روکنا، صبر اور تقویٰ، وقتی آزمائشوں سے نبٹنے کے لیئے صبر اور تقویٰ اختیار کرنا، محسن، تنگی اور خوشحالی میں خرچ کرنا، غصے کو پی جانا، اور دوسروں کو معاف کر دینا، شاکرین، بڑے سے بڑے دکھ کو اللّٰہ کی خاطر سہہ جانا، سب محبتیں قربان کرکے اللّٰہ کے دین کا کام کرنا، نرم خوئی، ساتھیوں کی غلطیوں کو ان کے اخلاص، قربانیوں اور ماضی کے کاموں کو سامنے رکھتے ہوئے معاف کردینا، شھادت کی تمنا، اللّٰہ کے پاس خاص زندگی اور رزق پانے والے مقام شھادت کی دل سے تمنا اقر دعا کرنا، جنگ احد ،مال کی محبت کی وجہ سے ناکامی کا ہونا۔ کامیابی کے لیئے کام کو خالصتاً اللّٰہ کے لیئے کرنا، جنت ،بیش قیمت ہے۔ حصول کے لیئے صبر اور جہاد کرنا، غم پر غم ،مضبوط بنانے کے لیئے، برداشت پیدا کرنے کے لیئے، ایک کے بعد ایک امتحان سے گزارنا، احسان عظیم، رسول اکرم کو تلاوت آیات، تزکیہ، تعلیمِ کتاب و حکمت کا ذریعہ بنا کر امت پر خاص عنایت کرنا، اللّٰہ پر بھروسہ، ہر دشمن سے بےخوف ہونے کے لیئے حسبنا اللّٰہ و نعم الوکیل کہنا، دھوکے کا سامان ،دنیا دھوکے کی چیز ہے۔ اس کے فریب میں آنے سے خود کو بچانا۔ آخرت اور آگ کے عذاب سے بچنے کی فکر کرنا، آل عمران کی آخری آیات ،نبی کریم ان کے ملنے پر اتنا روئے کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی۔ ان آیات پر تدبر کرتے ہوئے تلاوت کرنا، صلہ رحمی ،اللّٰہ کی خاطر رشتےداروں سے اچھا سلوک کرتے رہنا اور قطع رحمی سے بچتے رہنا، ایک سے

زائد نکاح، ضرورت کے تحت، عدل کی شرط کے ساتھ اجازت ملنا، وراثت ،اللّٰہ کی بتائی ہوئی تقسیم کے مطابق ہر ایک کو اس کا مقررہ حصہ دینا اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرنا، توبہ کی گنجائش، نادانی یا جہلت سے غلط کام کر لینے کے فوراً بعد توبہ کرنا اور دیر نہ کرنا، موت کے وقت کی جانے والی توبہ قبول نہ ہونا، معروف برتاؤ، گھروں میں خواتین کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے اچھا سلوک کرنا اور بلاوجہ دست درازی سے بچنا۔ علیحدگی کی صورت میں دیا ہوا مال واپس نہ لینا، حرمت والے رشتے، رشتوں کے تقدس کا پاس رکھنا۔ اور ان کی حرمت کا خیال رکھنا اور ماضی میں جو ہوچکا اس کا اعادہ نہ کرنا، آیئے نیکی کے اعلیٰ معیار کو پانے کے لیئے اپنی محبوب چیز اللّٰہ کی راہ میں قربان کریں۔

Leave a Comment