قربانی کے جانور کا احترام

قربانی کے جانور کا احترام

بی کیونیوز! قربانی کے جانور کا احترام سوشل میڈیا پر لوگوں نے جانوروں کو ذبح کرنے اور انہیں باندھ کر گرانے کی ایسی ایسی ویڈیوز اپلوڈ کی ہیں۔ دیکھ کر سخت مایوسی ہوتی ہے ۔ایسا لگتا ہے ہم ابھی تک آدم خو-ر معاشرے کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ کوئی رحم ، سلیقہ یا طریقہ نظر نہیں آتا۔ آج انسانوں کی خوراک کے لیے جانوروں کا مہذب طریقے سے ذب-ح خانوں میں بامطابق ضرورت ذب-ح کرنا، جس سے انسانوں کی آبادیاں مشکلات کا شکار نہ ہو، یہ تو قابل قبول ہے۔ لیکن اللہ کو خوش کرنے کے لئے گلی

محلوں میں اس قدر بھیا-نک کام کو سرانجام دینا، جو خصوصی بچوں کے لیے انتہائی خط-رن-اک ہے، یہ  قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔ لوگوں کو چاہیے کے گلی محلوں میں کچھ جگہیں مخصوص کر لینی چاہیے، جہاں پر سب لوگ اکٹھے ہو کر قربانی کا فریضہ ادا کریں۔ سنت ابراھیمی ادا کریں۔ قربانی کا سب سے بڑا مقام، حج کا مقام ہے، جو زمانہ قدیم میں حاجیوں کے اجتماع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رائج ہوا تھا۔ اب تو حاجیوں کو اس کی ضرورت بھی نہیں۔ خود سعودی عرب واقعی زندہ جانور ذب-ح کرنے کی بجائے حاجیوں سے جانوروں کی قیمتیں وصول کرلیتے ہیں۔ چلا ک عربی بھلا کیوں زاید زبحہ شدہ جانوروں کو صحرا میں دفن کرنے، یا ان کو غریب ممالک میں بھیجنے کے لیے کارگو کا کرایہ ادا کریں۔ مذہبی لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول کے مطابق سارا سال جانوروں کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔ اور اس پر طرح یہ کہ تقریبا 200 ٹرک، روزانہ جانوروں سے بھرے، افغانستان اسمگل ہوتے ہیں۔ جن کا بھتہ مختلف لوگوں کی جیب میں جاتا ہے۔ پاکستان کو کوئی ٹیکس وصول نہیں ہوتا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو بزریعہ جدید اجتحاد کی روشنی میں اس عظیم ضیاع کو روکنا چاہیے۔ اور اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Leave a Comment