قوم عاد

The Punishment of People of Aad (HUD)

قوم عادقوم عاد کا عبرتناک انجام۔

قوم عاد ایک توحید پرست قوم تھی۔ اوروقت کے ساتھ ساتھ قوم عاد آباد ہوئی۔ شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا۔ اوراسطرح وہ شیطان کی عبادت کرنے لگے۔ قوم نوح کے بعد جس قوم نے سب سے پہلے بت پرستی اختیار کی۔ وہ یہی قوم تھی۔اس قوم کو اللہ نے بہت ڈیل دی تھی۔ اور یہ بہت طاقتور قوم تھی۔مفسرین کے مطابق ان کے جسم بہت ٹھوس اورمضبوط تھے۔ اوراس قوم کا قد حضرت آدم علیہ السلام کے قریب تھا۔ اللہ تعالٰی سورہ اعراف میں فرماتے ہیں۔ کہ اورتم وہ حالت یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قوم نوح کے بعداپنا جانشین بنایا۔ اور ڈیل ڈول میں تمہیں زیادہ پھیلاؤ دیا۔ تو تم اللہ کی نعمتوں کو زیادہ یاد کروتاکہ تم فلاح پاؤ۔ حضرت ہود علیہ السلام کو ان پر پیغمبر بنا کر بھیجا۔

حضرت ہود علیہ السلام کی منادی۔

آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ کیا تم ایک ایک ٹیلے پربطور کھیل نشان لگا رہے ہو۔ یہ لوگ پہاڑوں کی چوٹیوں پر محل تعمیر کرتے تھے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ تم رہتے تو زمینوں پر ہو اور گھر پہاڑوں پر بناتے ہو۔ اسکی کیا وجہ ہے تم اتنے مضبوط محل تعمیر کر رہے ہو جیسے ہمیشہ یہیں رہو گے۔ یہ لوگ ٹیلوں گھاٹیوں دروں اور پہاڑوں پرعمارات تعمیر کرتے تھے۔ اور انکا مقصد ان میں رہنا نہیں تھا بلکہ صرف کھیل کود کے لئے ایسا کرتے تھے۔ حضرت ہود نے انہیں جھنجھوڑا کہ تم ایسا کام کیوں کرتے ہوجسکا کوئی مقصد نہیں۔

حضرت ہود  انہیں وعظ کرتے تھے کہ اے میری قوم اللہ نے تمہیں بڑی قوت سے نوازا ہے۔  تمہاری طاقت کا یہ عالم ہے کہ تم کسی پر ہاتھ ڈال کر ظلم کرتے ہو اور کوئی شخص تمہارے سامنے آنا گوارا نہیں کرتا۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔ اس سے ڈرو۔  جس نے تمہارے ان چیزوں میں مدد کی۔ اللہ نےاپنی ہر طرح کی نعمت مال، اولاد،اسباب،شہر،قوت،جسامت اور صنعت کاری سے تمہیں نوازا ہے۔  لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ لیکن ان کی قوم نے کوئی اثر نہ لیانہ ان پر ایمان لائے اور تکبر میں مبتلا ہوگئے۔ اللہ کی حمد کی بجا ئے اس کی نا شکری کرنے لگے۔ تکبر کو جب سے ابلیس نے اختیار کیا یہ وقت سے آزمائش بن چکا ہے۔

قوم عاد قرآن پاک میں

قرآن پاک
قوم عاد۔ قرآن پاک

اللہ سورہ حمیم السجدہ آیت نمبر 15 میں فرماتے ہیں پس قوم عاد نے تو زمین میں بلا وجہ سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے ہم سے زورآور کون ہےکیا انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ جس اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے بہت ہی زیادہ زور آور ہے۔جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور کفر میں حد سے بڑھ گئےتب اللہ نے حضرت ہود علیہ السلام کو انکی طرف بھیجاانہوں نے انہیں اللہ کی طرف بلایا اور کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اسکے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں۔ قوم کے کافر سردار کہنے لگے کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو بڑی بیوقوفی میں ہے ہمارے خیال میں تو جھوٹا ہےاس پر حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم میں بیوقوف نہیں ہوں اور تمام جہانوں کے پروردگا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا رہا ہوں تمہارا خیر خواہ اور امانت دار ہوں کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہوکہ تم میں سے ایک شخص کی معرفت اللہ کا ذکر تم تک پہنچا کہ وہ تمہیں خبردار کر دے کہ تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کروکہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد خلیفہ بنایا۔ تم اللہ کے احسانات کو یاد کروتاکہ فلاح اور نجات پاؤ۔

حضرت ہود کی نصیحت

حضرت ہود علیہ السلام اللہ کی عظیم نعمتوں کے ساتھ انکو نصیحت کی لیکن وہ بد بخت کفر ہی کرتے رہے۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ جن بتوں کی تم پوجا کر رہے ہواللہ نے اس کے متعلق کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ اے میری قوم میں اس دعوت تبلیغ کی کوئی اجرت نہیں مانگتا میرا اجر اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تو کیا تم پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے۔ اپنے رب سے گناہوں کی معافی طلب کرواور آئندہ گنا ہو ں سے توبہ کرو تکہ اللہ یہا ں رحمت کی بارش برسائے اور تمہاری طاقت اور بڑھے۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کو مسلسل انکو دعوت دیتے رہے اور وہ ظالم قوم حضرت نوح کی قوم کی طرح انکا مزاق اڑاتے رہے کہ تم بیوقوف ہو اور ہمارے کسی معبود کی جھپٹ میں ہو تم ہمارے بتوں کو برا کہتے ہو اس لئے ان میں سے کسی ایک کی مار ان پر پڑی ہے اس لئے تم ذہنی مریض بن گئے ہو۔

ظالم لوگ

وہ ظالم لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے ۔ دنیا میں خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ اور اپنی قوم کے سردار تھے۔ اپنے ما تحتوں سے کہنے لگے کہ یہ تم جیسا ہی انسان ہے۔  اور وہی کھاتا پیتا ہے جوتم کھاتے پیتے ہو۔ اب اگر تم نے اپنے جیسےانسان کی اطاعت کی توبہت خسارے میں رہو گے ۔ یہ تم اس بات سے دھمکاتا ہے کہ جب مر کر خاک اور ہڈیا ں بن جاؤ گے ۔ تو پھر زندہ کیے جاؤ گے ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ اس میں کوئی صداقت نہیں یہ زندگی صرف دنیا کی ہے۔ ہم مرتے جیتے رہتے ہیں ہم پھر نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ تو وہ شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔  ہم اس پر یقین نہیں کریں گے۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کو دعوت دیتے رہے۔ لیکن انہوں نے کہہ دیا کہ آپ ہمیں وعظ سنا ئیں یا نا سنائیں ہم اپنی روش نہیں چھوڑیں گے۔ اس طرح قوم انکو جھٹلاتی رہی۔

حضرت ہود کا اعلان

آخر حضرت ہود علیہ السلام نے انکو دھمکایا۔ اور فرمایا کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر اعلان کرتا ہوں۔  کہ اللہ کے سوا جن کی عبادت ہو رہی ہے ان سب سے بری طرح بیزار ہوں ۔ اب تم ہی نہیں اپنے سب معبودوں کو بھی بلا لو اور مجھے نقصان پہنچا دو۔  مجھے کوئی مہلت نہ دو اور نہ مجھ پر ترس کھاؤ۔ اور اللہ سے دعا کی۔  کہ اے میرے پروردگا ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد فرما۔ اور اللہ کی طرف سے آپ کو جواب ملا کہ یہ لوگ اپنے کئے پر بہت جلد پچھتائیں گے۔ اللہ نے ان سے بارش روک لی اور ایسی تیز ہوا سے انکا خاتمہ کیا۔ جسکی تاریخ میں مثا ل نہیں ملتی۔ بارش رکنے سے خشک سالی کی کیفیت پیدا ہوگئی درخت ختم ہو گئے۔ اب وہ لوگ بارش کی خواہش کرنے لگے۔ اس طرح ان پر عذاب کا دن آپہنچا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل انکی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور وہ خوشی سے اچھلنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ جبکہ انکا خیال غلط تھا۔  دراصل ابر کی صورت میں یہ وہی قہر الہی تھا جسکے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے۔ وہ عذاب انکی تما م چیزیں پھلوں خیموں اور درختوں کو تحس نحس کرتا ہواآیا۔  اس لئے اللہ کا یہی حکم تھا آندھی اس قدر زبردست تھی۔  کہ پہاڑوں پر انکے تعمیر کردہ محلوں کو بھی اڑا کر لے گئی اور مجرموں کا یہی بدلہ ہے۔

اللہ تعا لی قرآن پاک میں فرماتے ہیں۔

اسی طرح آندھیوں میں بھی ہماری طرف سے تنگی ہے۔ جب ہم نے ان پر خیروبرکت سے خالی آندھی بھیجی وہ جس چیز پر گرتی اسے بو سیدہ ہڈی کی طرح چورا چورا کر دیتی تھی۔ اس آندی نے ہر چیز کو فنا کر کے رکھ دیا۔ اللہ تعالی انکی تباہی ایک جگہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا   میرا عذاب اور میرے ڈرانے والی باتیں۔ ہم ے ان پر تندوتیز اور مسلسل چلنے والی ہوا کا ایک لگا تار ایک منحوس دن بھی بھیج دیا جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹختی تھی۔ گویا کہ وہ جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔ پس کیسی رہی میری سزا اور میرا ڈرانا۔ یقینا قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے۔پس کیا ہے کوئی میری نصیحت پکڑنے والا۔

 

ایک تیسرے مقام پر۔

اللہ نے ان کی ذلت اور رسوائی کا ذکر یوں کیا ہے۔ قوم عاد بےحد تیز اور تند ہوا سے غارت کر دی گئی۔ وہ ہوا ان پر برابر لگاتار سات رات اور آٹھ دنتک اللہ کے حکم سے چلتی رہی۔ آپ وہاں ہوتے تو دیکھتے لوگ وہاں یوں چاروں شانے چت گرے پڑے ہیں۔  جیسے وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہوں۔  کیا ان میں سے کوئی آپ کو باقی نظر آرہا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کو اللہ تعالی نےاپنی رحمت سے نجات دی۔  باقی تمام جگہوں پر تباہی تھی۔ لیکن جس جگہ حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھی تھے۔  انکی طرف یہ ہوا بھٹکی بھی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک باڑ تھی جس میں حضرت ہود علیہ السلام حیوانات ، چوپائے اور جو ان پر ایمان لانے والے تھے۔ اور آندھی نے ہر چیز کو فنا کر ڈالا۔ اللہ تعالی سورہ اعراف آیت 72 میں فرماتے ہیں۔ غرض ہم نے انکو اور انکے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا۔ اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔

 

اسی طرح سورہ ہود میں اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

جب ہمارا حکم آن پہنچا۔ تو ہم نے ہود کو اور انکے ساتھیوں کواپنی خاص رحمت سے نجات دی ۔ ہم نے ان سب کو عذاب سے صاف بچا لیا۔ یہ تھے قوم عاد کے لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا صاف انکا ر کیا۔ اور انکے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ایک سر کش نافرمان کے حکم کو مانا۔ دنیا میں بھی ان پر لعنت لگا دی گئی۔ اور قیامت کے دن بھی۔ دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ اسطرح قوم عاد تباہ ہو گئی۔ انکے بعد مومنوں نے باقی بچ جانے والے مکانات پرقبضہ کر لیا۔ اور وہاں رہنے لگے ۔  

%d bloggers like this: