قی-امت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

قی-امت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

بی کیونیوز! وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم :لا تقوم الساعۃ حتی تطلع الشمس من مغربها، فاذا طلعت ورآھا الناس، امنوا اجمعون، وذلک حین لا ینفع نفسا ایمانھا، لم تكن امنت من قبل او کسبت فی ایمانھا خیرا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قی-امت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو،) پھر اس کے بعد (جب وہ طلوع ہو گا، تو لوگ اسے دیکھتے ہی ایمان لے آئے گے، مگر یہ ایسا مرحلہ ہو گا جب کسی نفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سودمند نہ ہو گا، کیونکہ

اس سے پہلے نہ تو اس نے ایمان قبول کیا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے) کسی (اچھائی کو حاصل کیا تھا، صحیح بخاری، کتاب التفسیرحتی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے: سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اس سے متعلق سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ یہ سورج غروب ہونے کے بعد کہاں منتقل ہوتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: آفتاب گردش کرتے کرتے عرش بریں کے نیچے اپنے مستقر پر پہنچ کر) اللہ کے حضور (سجدہ ریز ہو جاتا ہے، پس وہ اسی حالت پر رہتا ہے، یہاں تک اسے حکم ہوتا ہے اٹھ اور لوٹ جا، جہاں سے تو آیا تھا، چنانچہ وہ سر اٹھائے لوٹتا ہے اور اپنے مطلع سے طلوع ہوتا ہے، پھر وہ چل نکلتا ہے اور گردش کرتے کرتے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر) اللہ کے حضور (سجدہ ریز ہو جاتا ہے، پھر اسے حکم ہوتا ہے اٹھ اور اپنے مطلع سے طلوع ہو، چنانچہ وہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے طلوع ہو گا، ) یہ ساری کیفیت بیان کرنے کے بعد آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :کیا آپ لوگ جانتے ہیں سورج اپنے مطلع سے کب طلوع ہو گا؟ یہ اس وقت ہو گا جب کسی متنفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سودمند نہ ہو گا، کیونکہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے نہ تو وہ ایمان لایا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے کسی اچھائی کو حاصل کیا تھا، صحیح مسلم، کتاب الایماناسی طرح ایک دوسری روایت بھی ہے جس کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :تین چیزیں ایسی ہیں جن کے

ظہور کے بعد کسی متنفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا نفع بخش ثابت نہ ہو گا، کیونکہ اس سے پہلے نہ تو اس نے ایمان قبول کیا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے کسی اچھائی کو حاصل کیا تھا، وہ تین چیزیں یہ ہیں:1: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا 2: دج-ال کا ظاہر ہونا 3: زمین سے جانور کا نکلنا، اسی طرح مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، ارشاد ربانی میں بھی بطور علامت قی-امت بتایا گیا ہے، یوم یاتی بعض ایت ربک لا ینفع نفسا ایمانھا لم تكن امنت من قبل او کسبتالأنعام، 108جس دن تیرے رب کی نشانیاں آ پڑیں گی،) اس وقت (کسی متنفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سود مند نہ ہو گا، کیونکہ وہ پہلے نہ تو ایمان رکھتا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے کسی اچھائی کو حاصل کیا،اسی طرح جو شخص اس علامت کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے، تو اس کے لیے بھی ایک وقت مؤجل ہے، جس کے بعد اس کا ایمان اور اس کی توبہ قبول نہ ہو گی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :ان اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر اللہ تعالٰی) اپنے (بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک اس کی روح حلق میں نہ آ جائے یعنی ہچکی نہ بند جائے، سنن ترمذی، کتاب الدعواتمعلوم ہوا یہ مواقع ایسے ہیں جن کے بعد کسی متنفس کا ایمان اور اس کی تو-بہ قابل قبول نہ ہو گی، اس علامت کے ظہور کے بعد لوگ اللہ کی طرف پلٹے گے، اس سے پہلے ان کو نہ تو ایمان کی فکر ہو گی اور نہ ہی تو-بہ کا تصور، مگر اس خلاف معمول عمل کو دیکھ کر فوری طور پر اللہ کی طرف رجوع کریں گے، لیکن اس وقت ان کا ایمان ان کے لیے نفع بخش ثابت نہ ہو گا، حقیقت یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد ایمان لانا بے سود ہو گا، اس وقت مہلت ایمان اختتام کو پہنچ چکی ہو گی اور لوگوں کے مرنے کی گھڑی قریب تر ہو گی، اس لیے میرا ملحد اور لادین دوستوں کو مشورہ ہے کہ ابھی وقت ہے، پکار اٹھو! “امنت باللہ “

Leave a Comment