مجھے میرے رب سے حیا آتی ہے

مجھے میرے رب سے حیا آتی ہے

بی کیونیوز! عمربن حبیب روم کی قیدمیں آئے توان کیساتھ باقی9 آدمی تھے۔ جنہیں ق ت ل کردیا گیا۔ عمر بن حبیب بہت خوبصورت تھے اس لیے بادشاہ نے انہیں اپنا غلام بنا لیا۔ عیسائی بادشاہ نے کہاکہ اگرتم اپنادین تبدیل کردو۔ تومیں تمہیں اپنی آدھی ریاست بھی دے دوں گا۔ اوراپنی بیٹی کی شادی بھی تم سے کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ سارا عرب بھی دے دے اورملک روم بھی دے دے، میں ایک پل کے لیے بھی اپنا دین نہیں چھوڑ سکتا۔ بادشاہ کوایک ترکیب سوجھی اس نے ایک گھرمیں انہیں بندکردیا اورایک خوبصورت لڑکی

کوکہا کہ اس سے گناہ کرواؤ۔ لڑکی آگئی اورحضرت عمربن حبیب کوگناہ کی دعوت دینے لگی حضرت نے نظراٹھاکراس لڑکی کونہ دیکھا۔ تین دن گزرگئے اورتین راتیں حضرت عمربن حبیب نے روٹی کھائی نہ نظراوپراٹھائی۔ لڑکی نے کہا تو کیا بلا ہے۔ تین دن سے نہ تونے کھایا، نہ پیا اورنہ تیری نظراٹھی، کون ہے تو، کیاہے تو، تمہیں کون روکتاہے توانہوں نے فرمایااب تومیرے لیے شراب بھی حلال ہے۔ جس سطح پرمیری پیاس پہنچ چکی ہے اوریہ گوشت بھی حلال ہے، جس سطح پر میری بھوک پہنچ چکی۔ مگر میں کیا کروں میری جوانی امانت ہے، میں یہ نہیں کر سکتا کیوں کہ مجھے میرے رب سے حیاآتی ہے کہ وہ مجھے دیکھ رہاہے۔ میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ لڑکی تین دن کی بجائے تیس دن بیٹھی رہے میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ میں اپنی جوانی پرداغ نہیں لگواسکتا۔ یہ امانت ہے۔ لڑکی نے کہاتیرے جیسے انسانیت کے تاج کومیں ق ت ل نہیں ہونے دوں گی۔ لڑکی نے باہرنکل کربادشاہ سے کہاکہ سردارتونے مجھے کس کے پاس بھیجا ہے۔ لوہا ہے نہ کھایا، نہ پیا، پتھرہے کہ نظراٹھا کہ نہ دیکھا، میں اس پرکیاہاتھ ڈالتی۔ رات کولڑکی آئی اورکھانا لے آئی اورایک مشکیزے میں پانی بھی لے آئی اورحضرت عمربن حبیب کودیا، بعد میں دروازہ کھول کرکہاکہ یہاں سے نکل جاؤ یہ قطبی تارہ جودیکھ رہے ہواس اپنے دائیں کندھے پررکھوتوایک دن تم عراق پہنچ جاؤگے۔ یہ کردارتھاجس نے صحرا نشینوں کوقیصروکسریٰ کے اوپرجھنڈے گاڑھنے کی طاقت عطافرمائی۔

Leave a Comment