مساجد کیلئے بلا معاوضہ قرآنی آیات کندہ کرنیوالا ہندو خطاط، روحانی طور پر ملنے والے سکون نے معاوضہ لینے سے روکا، انیل کمار چوہان

مساجد کیلئے بلا معاوضہ قرآنی آیات کندہ کرنیوالا ہندو خطاط، روحانی طور پر ملنے والے سکون نے معاوضہ لینے سے روکا،انیل کمار چوہان

بی کیونیوز! مشہور مقولہ ہے کہ فن کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، جس کی بہترین مثال بھارت کے شہر حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے انیل کمار چوہان ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق انیل کمار چوہان تقریبا 30 سالوں سے حیدرآباد دکن کی مساجد کی محرابوں اور دیواروں پر دلکش انداز سے قرآنی آیات تحریر کرکے عبادت گاہ کی زیب و زینت کو چار چاند لگا چکے ہیں۔ اور وہ اس کام کا معاوضہ بھی نہیں لیتے۔ حیدرآباد دکن کے پرانے علاقے چارمینار کے قریب گلی حسینی عالم میں ایک چھوٹی دکان ہے جہاں

نیم خواندہ انیل کمار ہندی، انگریزی، اردو اور تیلگو سمیت کئی مقاموں زبانوں میں سائن بورڈ لکھتے ہیں۔ انیل کمار کی خاص بات اردو اور عربی زبان کے حروف تہجی کو خوبصورت انداز سے تحریر کرنا ہے جس میں اسلامی تاریخ اور ثقافت کا رنگ بھی آجائےوہ خود بھی اردو اور عربی کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ جس کے لیے غزلیں کہتے ہیں اور نعتیں بھی پڑھتے ہیں۔ انیل کمار چوہان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 100 سے زائد مساجد کے لیے کی گئی خطاطی پر ہدیہ لیا، بعد ازاں 100 مساجد کے لیے بلامعاوضہ خطاطی کی اور اس دوران روحانی طور پر ملنے والے سکون نے معاوضہ لینے سے روکا۔ اس سے قبل انیل کمار چوہان نے بھارتی زبان کو نہیں جانتے تھے لیکن جب بھی وہ اردو زبان میں کسی تحریر کو پاتے تو کاپی کرتے تھے۔ جس کے لیے غزلیں کہتے ہیں اور نعتیں بھی پڑھتے ہیں۔ انیل کمار چوہان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 100 سے زائد مساجد کے لیے کی گئی خطاطی پر ہدیہ لیا، بعد ازاں 100 مساجد کے لیے بلامعاوضہ خطاطی کی اور اس دوران روحانی طور پر ملنے والے سکون نے معاوضہ لینے سے روکا۔ اس سے قبل انیل کمار چوہان نے بھارتی زبان کو نہیں جانتے تھے لیکن جب بھی وہ اردو زبان میں کسی تحریر کو پاتے تو کاپی کرتے تھے

Leave a Comment