مسجدالکوع اسلام کی قدیم ترین مسجد ہے، وادی طائف کےیادگار سفرکے دوران آپﷺ کا مسجدالکوع میں قیام کا واقعہ

مسجدالکوع اسلام کی قدیم ترین مسجد ہے، وادی طائف کےیادگار سفرکے دوران آپﷺ کا مسجدالکوع میں قیام کا واقعہ

بی کیونیوز! طائف شہر سعودی عرب کے ضلع مکہ کا مغربی شہر ہے۔ مکہ مکرمہ شہر سے سے قریب 120 کلومیٹر سے دور واقع طائف شہر میں جبل ابو زبیدہ کے پہاڑوں اور باغات کے بیچ ایک ایسی تاریخی مسجد موجود ہے۔ صدیوں قبل بنائی گئی اس مسجد کا نام “مسجد الکوع” ہے جو اسلام کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ صدیاں بیت جانے کے بعد آج بھی اس مسجد کی شان وشوکت پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔ یہ مسجد اپنے دیکھنے والوں کو کئی صدیاں پیچھے کے اس عظیم اور مظلوم سفر پر لے جاتی ہے۔ وہ سفر جو چودہ سو بیالیس برس قبل محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر

بیتے ان لمحات کو محسوس کرواتا ہے۔ جب دعوت الی اللہ دیتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر ظلم و ستم کے بادل پیہم برس چکے تھے۔ غیر انسانی اور بہیمانہ سلوک برداشت کرتا رہا، دوسروں سے کیا گلہ تھا ، حقیقی چچا ابولہب تک نے ہر طرح کی ایذاء و تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ مشکلات، مصائب، تکالیف، آزمائشوں، اذیتوں اور امتحانات سے دوچار ہونا پڑا۔ شعب ابی طالب کا تین سالہ سماجی بائیکاث کی تکلیفوں کا احساس کا بنا ہوا تھا۔ بیٹیوں کو طلاق کا غم کیسے ہلکا ہوتا۔ ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے والی شریک حیات سیدنا خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی موت بھی بھلائی نہیں جاتی تھی۔ آخر زید بن حارثہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو لے کرانگور کے ایک باغ میں پہنچے اور ویاں پناہ لی۔ یہ باغ مکہ کے ایک مشہور کافر عتبہ بن ربیعہ کا تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ حال دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ اور اس کے بھائی شیبہ بن ربیعہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم آگیا اور کافر ہونے کے باوجود خاندانی حمیت نے جوش مارا۔ چنانچہ ان دونوں کافروں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے باغ میں ٹھہرایا اور اپنے نصرانی غلام “عداس” کے ہاتھ سے آپ کی خدمت میں انگور کا ایک خوشہ بھیجا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بسم اﷲ پڑھ کر خوشہ کو ہاتھ لگایا۔ تو عداس تعجب سے کہنے لگا “کہ اس اطراف کے لوگ تو یہ کلمہ نہیں بولا کرتے ”تب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ: تمہارا وطن کہاں ہے؟تو عداس نے کہا کہمیں ” شہر نینویٰ ” کا رہنے والا ہوں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حضرت یونس بن متی علیہ السلام کا شہر ہے۔ وہ بھی میری طرح خدا عزوجل کے پیغمبر تھے۔ یہ سن کر عداس آپ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگا اور فوراً ہی آپ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ یہاں سے آپ مقام “نخلہ پہنچے، اور مقام نخلہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے چند دنوں تک قیام فرمایا۔ پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مقام “حراء” میں تشریف لائے اور قریش کے ایک ممتاز سردار

مطعم بن عدی کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ“ کیا تم مجھے اپنی پناہ میں لے سکتے ہو؟ ”عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی شخص ان سے حمایت اور پناہ طلب کرتا تو وہ اگرچہ کتنا ہی بڑا دشمن کیوں نہ ہو وہ پناہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ مطعم بن عدی نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی پناہ میں لے لیا اور اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ:“تم لوگ ہتھیار لگا کر حرم میں جاؤ” اور پھر مطعم بن عدی خود گھوڑے پر سوار ہو گیا اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ مکہ لایا اور حرم کعبہ میں اپنے ساتھ لے کر گیا اور مجمع عام میں اعلان کر دیا کہ میں نے محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو پناہ دی ہے۔ اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اطمینان کے ساتھ حجر اسود کو بوسہ دیا اور کعبہ کا طواف کرکے حرم میں نماز ادا کی اور مطعم بن عدی اور اس کے بیٹوں نے تلواروں کے سائے میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو آپ کے گھر تک پہنچایا۔ اس مسجد الکوع کی تاریخی اہمیت یہی ہے کہ جہاں پر یہ مسجد الکوع تعمیر کی گئی تھی وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر طائف کے دوران کچھ دیر قیام فرمایا تھا۔ اس مسجد کو “مسجد الموقف” کا نام بھی اسی نسبت سے دیا جاتا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے سفر کے دوران یہاں کچھ دیر رکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر کچھ دیر کے لئے ٹیک بھی لگائی۔ اسی جگہ پر مسجد الکوع بنائی گئی تھی۔ اسی نسبت سے یہاں پر یہ مربع شکل کی مسجد تعمیر کی گئی جس کی لمبائی 8 اور چوڑائی 7 میٹر تھی۔ یہ مسجد تین میٹر اونچی بنائی گئی۔ اس کا کھلا صحن چار میٹر چوڑا اور سات میٹر لمبا ہے۔ مسجد میں ایک چھوٹا محراب ہے جس کے ایک طرف مربع شکل کی ایک کھڑکی ہے۔ اس کی دو دیواروں پر دو مستطیل کھڑکیاں ہیں۔ مسجد کی چھت پر ایک چھوٹا گنبد ہے جس کے اضلع کی لمبائی 80 سینٹی میٹر اور اونچائی تین میٹر ہے۔ اس مسجد کی زیارت کرنے والے آج بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے سفر طائف کی المناک یادوں میں کھو جاتے ہیں وہ الم ناک سفر آج تک تاریخ کا ورق ورق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رحم و کرم، عزیمت، ثابت قدمی اور فراخی حوصلہ کی داستانیں سنا رہا ہے۔ سعودی عرب میں آثار قدیمہ اور سیاحت کے پروگرام کے تحت اس مسجد کو بھی اپنی تاریخی اہمیت کی وجہ سے مستقبل کے سیاحتی مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Leave a Comment