ملک الموت مومن آدمی کی روح کیسے قبض کرتے ہیں

ملک الموت مومن آدمی کی روح کیسے قبض کرتے ہیں

بی کیونیوز! مومن آدمی کی موت کا منظر خوبصورت چہروں والے فرشتے جنت کی خوشبو اور جنت کے کفن کے ساتھ نیک روح کو لینے آتے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ۔ مومن آدمی جب اس دنیا کے آخری اور آخرت کے پہلے مراحل میں ہوتاہے توآسمان سے سورج کی

طرح کے انتہائی سفید چہروں والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، ان کے پاس جنت کا کفن اورخوشبو ہوتی ہے، وہ آ کر اس آدمی کی آنکھوں کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نظر جاتی ہے(اے مسلمانو یہ روح کے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف نکلنے کے وقت کا منظر ہے جب آدمی کی موت کا وقت آجاتا ہے اور اس کی روح اس کے حلق کی طرف چڑھتی ہے تاکہ جسم سے باہر نکل سکے اور یہ دنیا میں اس کے آخری سانس ہوتے ہیں اور وہ ان سب لوگوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے جو اس کے ارد گرد ہوتے ہیں اور اللہ تعالی جانتا ہے جب اس کی روح نکل رہی ہوتی ہے جب کہ وہ اس چیز سے بے خبر ہوتے ہیں )اسی منظر کو اللہ تعالی نے یوں بیان کیا ہے
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ پھر کیوں نہیں کہ جب وہ (جان) حلق کو پہنچ جاتی ہے۔ الواقعة : 83
وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ اور تم اس وقت دیکھ رہے ہوتے ہو۔ الواقعة : 84
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَكِنْ لَا تُبْصِرُونَ اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے۔ الواقعة : 85
فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ سو اگر تم (کسی کے) محکوم نہیں تو کیوں نہیں۔ الواقعة : 86
تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ تم اسے واپس لے آتے، اگر تم سچے ہو۔ الواقعة : 87

Leave a Comment