نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گُناہوں سے بچو

نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: سات ہلاک کرنے والے گُناہوں سے بچو

بی کیونیوز! نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:سات ہلاک کرنے والے گُناہوں سے بچو۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، جس جان کو اللہ تعالی نے حرام فرمایا ہے اُسے ناحق قتل کرنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا اور جنگ کے دن میدان چھوڑ کر بھاگ جانا، پاکدامن سیدھی سادھی عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سود

کھانے والے سود کھلانے والے اور اُس کا کاغذ لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور سود کے گواہوں اور سود کا کاغذ لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: سود کھانے والا سود کھلانے والا سود کا کاغذ لکھنے والااِس بات کو جان لیں کہ قیامت تک محمد (ﷺ) کی زبانِ (مبارک) پر انہیں ملعون کہا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: سود سے(بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شبِ معراج میں گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح(بڑے بڑے) ہیں اُن پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں. اللہ تعالیٰ نے سود کھانے والوں کے لئے کل قیامت کے دن جو رسوائی وذلت رکھی ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں کچھ اس طرح فرمایا: جولوگ سود کھاتے ہیںوہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھوکر پاگل بنادیا ہو۔ (سورۂ البقرہ ۲۷۵) سود کی بعض شکلوں کو جائز قرار دینے والوں کے لئے فرمان الٰہی ہے: یہ ذلت آمیز عذاب اس لئے ہوگا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے حالانکہ اللہ نے بیع یعنی خرید وفروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔(سورۂ البقرہ ۲۷۵)

Leave a Comment