نبی کریمﷺنےخواب میں دیکھاکہ دج-ال خانہ کعبہ کا طواف کررہا ہےاوراس کاچہرہ ہوبہوکس سےملتاہے؟

نبی کریمﷺنےخواب میں دیکھاکہ دجال خانہ کعبہ کاطواف کررہا ہےاوراس کاچہرہ ہوبہوکس سےملتاہے؟

بی کیو نیوز! نبی کریمﷺنےخواب میں دیکھاکہ دج-ال خانہ کعبہ کاطواف کررہا ہےاوراس کا چہرہ ہو بہو کس سے ملتا ہے؟ نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ دج-ال ہرجگہ جائے گا۔ لیکن مکہ اورمدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ اللہ تعالیٰ نےفرشتوں کی ڈیوٹی لگارکھی ہے، کہ جب دج-ال آئے گا، تواسے مارمارکربھگادیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب فت-نہ دج-ال کا ظہور ہوگا، تو اللہ پاک حرمین شریفین کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر کر دیں گے، جو اسلام مخالف لوگوں کو، دج-ال اور دج-ال کے حامیوں کو اندر داخل

ہونے سے روکیں گے۔ اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سیدنا عیسیٰ ابن مریم دو انسانوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے کعبۃ اللہ کا طواف کررہے ہیں۔ اسی خواب میں میں نے یہ بھی دیکھا کہ دج-ال بھی آپ کے پیچھے کعبۃ اللہ کا طواف کررہا ہے۔ ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اورایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دج-ال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو خزاعہ قبیلہ کی ایک شاخ ہے۔ حدیث نمبر 7026 ہر پیغمبر کا خواب گواہی ہوتا ہے حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ حضرت عیسیؑ نے جس طرح دو انسانوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے، اسی طرح دج-ال نے بھی دو انسانوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا ہوا ہے، اور طواف کر رہا ہےاور حدیث میں ہے کہ دج-ال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔ مولانا محمد مکی نے اپنے درس میں کہا کہ جو لوگ قرآن کے مصادرسے پوری طرف واقف نہیں ہوتے، وہ ان احادیث کا غلط مطلب نکالتے ہیں، اور راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں۔ دونوں احادیث اپنی جگہ درست ہیں۔ ہوگا یہ کہ دج-ال کعبہ کا طواف کرے گا لیکن اس وقت اس نے دج-الیت کا دعویٰ نہیں کیا ہوگا۔ اس لیے اسے اجازت ہوگی۔ لیکن جب وہ دج-الیت کا دعویٰ کرے گا۔ تب اللہ رب العزت کی طرف سے اس پر پابندی لگا دی جائے گا، اور مکہ اور مدینہ کے راستوں پر فرشتے متعین کردئیے جائیں گے۔ اسی حدیث شریف کے تناظر میں مولانا محمد مکی صاحب نے عزازیل کا واقعہ سنایا کہ وہ بھی ملعون ہونے سے پہلے جنت میں ہی رہا کرتا تھا۔ اللہ پاک سے تو کچھ بھی پوشیدہ نہیں، مگر پھر بھی اس کی آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے کی بے جا تاویلوں اور بحث سے پہلے تک اسے جنت میں رہنے دیا گیا اور جیسے ہی اس نے حکم خداوندی کے خلاف جانے کی گستاخی کی، اسے ملعون قرار دے کر جنت سے نکال دیا گیا اور وہ ابلیس جو پہلے فرشتوں کا سردار یعنی (عزازیل) تھا، اب ابلیس اور دھتکارا ہوا قرار دیدیا گیا۔

Leave a Comment