نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مومن کی روح اس کے جسم سے نکلنے کی مثال ایسی ہے جیسے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مومن کی روح اس کے جسم سے نکلنے کی مثال ایسی ہے جیسے؟

بی کیو نیوز! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ اس کی روح آرام سے بہتی ہوئی یوں نکل آتی ہے، جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکل آتا ہے۔ یعنی جیسے پانی کا قطرہ مشکیزے سے نکلتا ہے وہ جو چمڑے کا بنا ہوتا ہے جب اس مشکیزہ کو الٹا کر دیا جائے تو اس سے سارا پانی نکل جاتا ہے وہ قطرہ جو اس کے اوپر والے حصے میں باقی رہ جائے جب اس کا منہ نیچے کی طرف کرکے اسے لٹکا دیا جائے تو وہ کس طرح آہستہ آہستہ

نیچے کی طرف آتا ہے اور اس کے منہ سے آسانی کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے وہ قطرہ مشکیزے کی اوپر والی جانب سے نیچے والی جانب کی طرف بڑی آسانی کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے بہنا شروع کر دیتا ہے نہ اس میں سختی ہوتی ہے نہ کوئی رکاوٹ ہوتی ہے بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ مشکیزے کے منہ تک آ جاتا ہے پھر اس مشکیزے سے نکل جاتا ہےایسے ہی مومن کی روح اس کے جسم سے بڑی ہی آسانی کے ساتھ اور نرمی کے ساتھ باہر نکل جاتی ہے پاکیزہ روح کے باہر نکلتے ہی دیگر فرشتے اسے حاصل کرنے کے لیے فورا آگے بڑھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا جنت کے فرشتے اس روح کو موت کے فرشتے کے ہاتھوں میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ فوراًاسے وصول کر لیتے ہیں (یعنی رحمت کے فرشتے جو موت کے فرشتے کے ساتھ جنت سے کفن لے کر نازل ہوئے تھے اور جنت سے خوشبو لے کر نازل ہوئے تھے وہ پسند نہیں کرتے کہ اس مومن بندے کی روح آنکھ جھپکنے کے برابر بھی ملک الموت کے پاس رہے لہذا وہ فوراً ہی اس روح کو ملک الموت سے وصول کر لیتے ہیں)پاکیزہ روح کا ادب، اکرام اور احترام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ پھر وہ اسے جنت والے کفن اور اس کی خوشبو میں لپیٹ دیتے ہیں وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ اس سے روئے زمین پر کستوری کی عمدہ ترین خوشبو جیسی مہک آتی ہے یہ خوشبو اِس چیز کی ہے کہ اس روح نے دنیا میں اپنے جسم کو غلاظتوں سے بچا کر رکھا تھا اچھے اخلاق کے ساتھ اچھی گفتگو کے ساتھ مساجد کی طرف چل کر جانے کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ امر بالمعروف کے ساتھ نہی عن المنکر کے ساتھ لہذا یہ روح عزت واکرام کی مستحق ہے آسمان کی طرف سفر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فَيَصْعَدُونَ بِهَا پھر فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں جب روح کو اوپر کی طرف لے جایا جاتا ہے تو وہ جسم سے

جدا ہو چکی ہوتی ہے اور فوت ہونے والے کے اہل و عیال پیچھے رو رہے ہوتے ہیں آنکھوں سے آنسو نکل رہے ہوتے ہیں مال پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کو یقین آ چکا ہوتا ہے کہ وہ ان کے سامنے فوت ہوگیا ہے اس کے گھر والے اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں اور لوگوں میں اس کا اعلان کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کی نماز جنازہ میں شامل ہو سکیں لیکن اس دوران انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ روح کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے اور اللہ تعالی سب کچھ جانتے ہوتے ہیں اور فرشتے اسے آسمان کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں

Leave a Comment