نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے. حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ۔ ۔ ۔

نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے. حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ۔ ۔ ۔

بی کیونیوز! حضور نبی کریم ﷺ کا ہر سال قربانی کرنا قربانی کی اہمیت، فضیلت اور تاکید کیلئے کافی ہے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سیاہ اور سفید رنگت والے اور بڑے سینگوں والے دو مینڈھوں کی قربانی فرمایا کرتے تھے، اور اپنے پاؤں کو ان کی گردن کے پاس رکھ لیا کرتے تھے اور اپنے دستِ مبارک سے ذبح فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری) اس حدیث مبارکہ سے جہاں قربانی کی فضیلت و اہمیت واضح ہوتی ہے وہاں پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے

ذبح کرنا افضل ہے۔ قربانی کے عمل کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر ایک وقت میں سو اونٹوں کی قربانی فرمائی، ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے خود اپنے دستِ اقدس سے سو میں تریسٹھ اونٹوں کو ذبح فرمایا، جبکہ باقی کیلئے حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الْکریم کو ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔ (صحیح بخاری) قرآن مجید کی روح سے قربانی اسلامی شعائر یعنی نشانیوں میں سے ہے، جس کے ذریعے اسلام کی شان و شوکت نمایاں ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی سورت حج آیت نمبر 32,36,37 میں ارشاد فرماتے ہیں۔ ترجمہ! یہ ساری باتیں یاد رکھو، اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ بات دلوں کے تقوی سے حاصل ہوتی ہے۔ اور قربانی کے اونٹ اور گائے کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کے شعائر میں شامل کیا ہے، تمہارے لئے ان میں بھلائی ہے چنانچہ جب وہ ایک قطار میں کھڑے ہوں، اُن پر اللہ کا نام لو، پھر جب (ذبح ہو کر) اُن کے پہلو زمین پر گر جائیں تو ان (کے گوشت) میں سے خود بھی کھاؤ، اور ان محتاجوں کو بھی کھلاؤ، جو صبر سے بیٹھے ہوں، اور ان کو بھی جو اپنی حاجت ظاہر کریں۔ اور ان جانوروں کو ہم نے اسی طرح تابع بنا دیا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ انکا خون، لیکن اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے، اُسی نے یہ جانور اسی طرح تمہارے تابع بنا دئیے ہیں تاکہ تم اس پر اللہ کی تکبیر کرو کہ اُس نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی، اور جو لوگ خوش اسلوب سے نیک عمل کرتے ہیں اُنہیں خوشخبری سُنا دو۔

Leave a Comment