نظر بد سے بچاؤکا مسنون طریقہ

نظر بد سے بچاؤکا مسنون طریقہ

بی کیونیوز! نظر بد سے بچاؤ نہ کرنے کی صُورت میں یا بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے کے بعد بھی اگر اللہ کی مشیئت کے مطابق نظر بد کا اثر ہو جائے تو پھر بھی اللہ ہی پر توکل کرتے ہوئے اور اُس کی قضاء اور قدر پر راضی رہتے ہوئے نظر بد کے اثر کو دُور کرنے کے لیے ہمیں سکھائے گئے. ذرائع اور طریقوں کے مطابق عِلاج کی طرف توجہ کی جانی چاہیے جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ “کسی پر جسمانی مشکلات نمودار ہونے کی صُورت میں اُسے نظر بد کا شِکار سمجھ لینے سے پہلے

ضروری ہے کہ جسمانی طور پر اس کا طبی معاینہ کروایا جائے اورکسی صحیح مستند نفسیاتی طبیب سے بھی اس کا معاینہ کروایا جائے۔ جی ہاں، طبی اور نفسیاتی معاینے کے بعد اس امکان کے بارے میں سوچا جانا چاہیے ، فی الفور اس پر یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ نظر ہی لگی ہے، یا کوئی جادُو یا آسیب وغیرہ کا اثر ہو گیا ہے ، یاد رکھیے کہ وھم ایسی خوفناک بیماری ہے جو بہت سے بیماریوں کو سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات انسان کو موت تک لے جاتی ہے” ، لیکن جسمانی ، نفسیاتی اور مادی ذرائع تشخیص و عِلاج(diagnostic and treatment) کے اختیار کرنے سے پہلے بھی بطور احتیاط ہم روحانی عِلاج شروع کر سکتے ہیں کہ اگر وہ عِلاج اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حدود میں ہو گا تو اِن شاء اللہ اس کا کوئی نقصان نہیں، بلکہ فائدہ ہی ہو گا ، خواہ وہ شخص واقعتا نظر بد کا یا کسی جادُو یا کسی آسیب وغیرہ کا شکار ہو یا نہ ہو، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم ہر رات جب بستر پر آرام فرماتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر قل ھو اللہ احد، قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس تینوں سورتیں مکمل پڑھ کر ان پر پھونکتےاور پھردونوں ہتھیلیوں کو جہاں تک ممکن ہوتا اپنے جسم پر پھرتے تھے۔ پہلے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اور پھر سامنے کے بدن پر یہ عمل آپ تین دفعہ کرتے تھے۔ صحیح بخاری حدیث نمبر 5017)

Leave a Comment