نمازاشراق کی فضیلت، نمازکاطریقہ، وقت اوررکعت، پڑھیئے حدیث کی روشنی میں

نمازاشراق کی فضیلت، نمازکاطریقہ، وقت اوررکعت

بی کیو نیوز! نمازاشراق کی فضیلت، نمازکاطریقہ، وقت اوررکعت، پڑھیئے حدیث کی روشنی میں، نماز اشراق ایک نفلی نماز ہے، جو طلوع آفتاب کے بعد اس وقت پڑھی جاتی ہے، جب آفتاب ذرا بلند ہو جائے اور آفتاب کی چمک میں اتنی تیزی ہو جائے کہ دیکھنا مشکل ہو، اس کا اندازہ بعض حضرات نے طلوعِ آفتاب کے بعد پندرہ سے بیس منٹ کا لگایا ہے، لیکن اصل بات یہی ہے کہ مقام اور موسم کا اعتبار ہوگا، اور اشراق کا وقت

نصف النہار تک رہتا ہے۔ نصف النہار کی تعین کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ صبح صادق کتنے بجے ہوتی ہے اور سورج کتنے بجے غروب ہوتا ہے. اس کے درمیان کے گھنٹوں کا حساب کرکے ان کا آدھا لے لیا جائے۔ نماز اشراق کی کم از کم 2 اور زیادہ سے زیادہ 4 رکعتیں ہیں۔ احادیث میں اس نماز کے بے حد فضائل دئیے ہوئے ہیں۔ اشراق میں افضل یہ ہے کہ فجر کی نماز پڑھ کر انسان اسی جگہ بیٹھ کر ذکر کرتا رہے اور طلوع آفتاب کے بعد اشراق پڑھ کر اٹھے. حدیث میں اس کا ثواب حج اور عمرے کے برابر بتایا گیا ہے. لیکن اگر کوئی شخص کسی وجہ سے ایسا نہ کرسکے. تو گھر آکر یا کوئی دوسرا کام کرکے بھی اشراق کی رکعتیں پڑھ سکتا ہے۔ جو شخص فجر کی نماز جماعت سے ادا کرے پھر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے، پھر اس کے بعد دو رکعت پڑھے تو اس کو کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔  نمازِ اشراق کا وقت طلوعِ آفتاب سے 20 منٹ بعد شروع ہوتا ہے۔ اسے نمازِ فجر اور صبح کے وظائف پڑھ کر اٹھنے سے پہلے اسی مقام پر ادا کرنا چاہیے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  جو شخص صبح کی نماز باجماعت پڑھ کر طلوع آفتاب تک بیٹھا اللہ کا ذکر کرتا رہا، پھر دو رکعت نماز (اشراق) ادا کی اس کے لئے کامل (و مقبول) حج و عمرہ کا ثواب ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لفظ تامۃ ’’کامل‘‘ تین مرتبہ فرمایا۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب

Leave a Comment