نماز میں دل نہیں لگتا؟؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ ناراض ہیں؟؟ تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟؟

نماز میں دل نہیں لگتا؟؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ ناراض ہیں؟؟ تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟؟

بی کیونیوز! اگر انسان کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اللہ اس سے کسی بات پرناراض ہیں. تو یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے کہ اللہ کو وہ انسان اتنا پیارا ہے کہ اسے ناراضگی کا احساس محسوس کروایا تاکہ وہ عمل درست کرکے اپنے رب کی طرف لوٹ آۓ جو اس سے اتنی محبت کرتا ہے کہ اسے خود سے دور جاتا نہیں دیکھنا چاہتا. تبھی دل میں احساسِ شرمندگی ڈال دیتا ہے۔ جن کے دل میں وہ ذرہ برابر بھی بھلائی دیکھتا ہے، انکو چھوٹے چھوٹے ریمائینڈرز کے ذریعے اپنی طرف بلاتا ہے. اگر کبھی لگے کہ اللہ ناراض ہیں تو

فورا پلٹیں، دل کو ٹٹولیں کہ کس بات سے ناراضگی ہو سکتی ہے، عموماً سمجھ آجاتا ہے کہ مجھ سے یہ یہ عمل ہوا ہے جس کہ وجہ سے میرا اللہ مجھ سے ناراض ہے۔ فوراً اللہ سے معافی مانگیں، اپنے گن-اہ نہ بھی یاد آئیں تب بھی معافی مانگیں، کیونکہ کبھی کبھی شی-طان ہم سے بار بار گن-اہ کروا کر ہماری آنکھوں پہ اس قدر پٹی باندھ چکا ہوتا ہے کہ ہمیں وہ گن-اہ گن-اہ دکھنا ہی ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ سو تو-بہ واستغفار کثرت سے کریں تاکہ آپکے جو بھی گن-اہ آپکےاور اللہ درمیان رکاوٹ بنا ہے اور آپکا اس سے تعلق کمزور کر گیا ہے اس کے اثرات ختم ہو سکیں اور آپکا رب سے رشتہ پھر سے اچھے درجے پہ قائم ہو جائے۔ مگر ان حالات میں اللہ کی رحمت سے مایوس ہر گز نہیں ہونا ہے، کیونکہ یہ شی-طان کی چالوں میں سے ہے کہ پہلے وہ گن-اہ کو چھوٹا کر کے دکھاتا ہے، پھر جب گن-اہ ہو جائے تو اللہ کی رحمت سے مایوس کروا دیتا ہے کہ اب تو تم نے وہ کام کیا ہے جسکی معافی ممکن نہیں ہے، یایہ کہ اب کس منہ سے اُس کے پاس جاؤ گے، کس منہ سے معافی مانگو گے۔ لہذا معافی مانگیں، پھر گن-اہ ہو تو پھر سے معافی مانگیں۔ پھر غلطی ہو تو پھر معافی مانگیں۔ جتنی بار گریں اتنی بار اٹھیں۔ جس دن آپ نے اٹھنے سے انکار کر دیا چاہے شرمندگی سے یا جس بھی وجہ سے سمجھیں اس دن شی-طان جیت گیا اور اس کی آپکو جنت ہرا دینے کی چال کامیاب ہو گئی۔ شی-طان یہ بھی جانتا ہے کہ ایک مسلمان چاہے جتنے حرام کام کر لے مگر نماز ایسی چیز ہے جو اسکا اللہ سے تعلق جوڑے رکھے گی، یعنی یہ ایسی کھڑکی ہے جو کھلی رہی تو بار بار واپسی ہو گی اور بار بار کچھ نہ کچھ تعلق قائم رہے گا۔ اس لیے وہ نماز ہی پہ ضرب لگاتا ہے کہ کسی طرح اس کی نماز کی عادت چھوٹ جائے، تاکہ واپسی کی جو ایک کھڑکی کھلی ہے وہ بھی بند ہو جائے. خدارا اس کھڑکی کو کبھی بند نہ ہونے دیجیے گا.

Leave a Comment