نما زمیں سنتیں چھوڑنےوالےاپنا کتنا نقصان کرتے ہیں؟ رسول اللہﷺ کا فرمان پڑھ لیں

نما زمیں سنتیں چھوڑنےوالےاپنا کتنا نقصان کرتے ہیں؟ رسول اللہﷺ کا فرمان پڑھ لیں

بی کیونیوز! نما زمیں سنتیں چھوڑنےوالےاپنا کتنا نقصان کرتے ہیں؟ رسول اللہﷺ کا فرمان پڑھ لیں. جو سنتیں نہیں پڑھتا وہ صرف ایک سال کے عرصے کے دورانیہ میں، ان دو بندوں کے درمیان، جو سنتیں پڑھتا ہے اور جو سنتیں نہیں پڑھتا، 4320 رکعتوں کا فرق آتا ہے۔ ان کے درمیان فرق، جو وتر پڑھتا ہے خواہ ایک ہی ہو اور جو نہیں پڑھتا، 365 رکعات کا ہے۔ جو چاشت کی دو رکعت نماز پڑھتا ہے اور جو نہیں پڑھتا ان کے درمیان 730 رکعات کا فرق ہے۔ ان کے درمیان

فرق، جو اپنی سنتوں کو متواتر پڑھتا ہے اور جو ان کی حفاظت نہیں کرتا، 5415 رکعتوں کا ہے۔ یہ بہت بڑا فرق ہے لیکن ہم اپنی سستی کی وجہ سے اس فرق کا شعور ہی نہیں رکھتے اور ان کی ادائیگی سے لا پرواہی برتتے ہیں. لیکن یہ یاد رہے کہ ہر رکعت میں دو سجدے ہیں یعنی ہر رکعت کے ساتھ جنت میں دو درجات کی بلندی ہے۔ ابی عبداللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ابو عبد الرحمن ثوبان کہتے ہیں. میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناکہ تم پر سجدوں کی کثرت لازم ہے. کیونکہ بے شک کوئی اللہ کے آگے سجدہ نہیں کرتا. مگر یہ کہ اللہ اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بڑھا دیتا ہے. اور اس کے بدلے ایک برائی مٹا دیتا ہے۔ (رواہ مسلم) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان سنتوں کے ذریعے قیامت کے دن فرائض کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا وہ فرماتے ہیں بے شک قیامت کے دن بندے سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے. اگر وہ درست ہو گی تو وہ کامیاب ہوا اور نجات پا جائے گا اور اگر وہ ہی درست نہ ہوئی تو وہ ناکام ہوا. اور خسارہ اٹھائے گا۔ اگر اس کے فرائض میں کوئی کمی کوتاہی ہوئی تو رب عزوجل فرمائے گامیرے بندے کے اعمال میں دیکھو کیا کوئی نفلی عبادت ہے جو اس کے فرائض کے نقصان کو پورا کر دے ؟پھر اس کے باقی اعمال کے معاملے میں بھی یہی ہوگا۔ (سنن الترمذي و النسائي) (لہذا اس پر عمل کرنے کے لیے) یہی کافی ہے کہ سنت فرض نمازوں میں کمی کو پورا کر دے گی!

Leave a Comment