نوابزادہ میر سراج رئیسانی شہید کون تھا؟

نوابزادہ میر سراج رئیسانی شہید کون تھا؟

نوابزادہ میر سراج رئیسانی شہید کون تھا؟ قوم کے بہادر بیٹے کی بلوچستان۔ آج سے ایک سال قبل 13 جولائی کو جب میں نے مستونگ بلوچستان میں خودکش حملے کی خبر سنی۔ تو میرا پہلا خیال سراج رئیسانی کی طرف گیا۔ کہ خدا نہ کرے کہ یہ حملہ سراج رئیسانی پہ ہوا ہو۔ کیوںکہ سراج رئیسانی بلوچستان میں ان افراد میں تھا۔

جو دشمنوں کے ہمیشہ نشانے پہ رہتے تھے۔۔ مگر افسوس کہ خیال سچ ثابت ہوا۔ پہلے خبر آئی کہ سراج رئیسانی زخمی ھیں۔ دل سے لاکھوں دعائیں نکلیں کہ اللہ اسے کچھ نہ ہو۔ مگر اگلے لمحے میں خبر آئی کہ سراج رئیسانی شہید ہو گئے ھیں۔ پرامن علاقوں جیسے پنجاب ، سندھ میں رہنے والے پاکستانیوں کو شاید سراج رئیسانی کے بارے میں نہ پتہ ہو کہ سراج رئیسانی کون تھے؟ بلوچستان میں جس وقت آزادی کے نام دہشت گردی عروج پہ تھی۔ وہاں پہ پاکستان کا پرچم جلایا جاتا تھا۔ آزاد بلوچستان کا جھنڈہ ” بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ ” میں لہراتا تھا۔ سکولوں میں پاکستانی ترانے کی بجائے “آزاد بلوچستان ” کا ترانہ پڑھا جانے لگا۔ بلوچستان میں آباد دوسری قومیتوں کو چن چن کے مارے جانے لگا۔ بلوچستان میں لوگ ” پاکستان ” کا نام لینے سے ڈرتے تھے۔ تو ایسے میں جہاں بلوچستان سے کئی مجاہد اٹھے۔ ان میں ایک سراج رئیسانی بھی تھے۔ سراج رئیسانی نے بلوچستان میں وہاں وہاں پاکستان کا جھنڈہ لہرایا۔ جہاں سے دہشت گردوں نے اسے جلایا تھا۔ دہشت گردوں کو چیلنج کر کے کہتے تھے کہ کوئی اب پاکستان کا جھنڈہ اتار کے دکھائے۔ دہشت گردوں کے دلوں میں سراج رئیسانی ایک رعب بیٹھ گیا۔ کئی دہشت گرد سر مچور ان کے ہاتھوں مارے گئے۔

کئی بار دہشت گردوں نے آپ کو مارنے کی کوشش کی۔ اس لڑائی میں آپ کا بڑا بیٹا شہید ہو گیا۔ لیکن آپ پھر بھی پیچھے نھیں ہٹے۔ آخر کار دہشت گرد اپنے مزموم ارادوں میں کامیاب ہوئے۔ ایک سال قبل 13 جولائی کو مستونگ میں ایک دھماکے کے دوران سراج رئیسانی اپنے 80 جانثار ساتھیوں سمیت شہید ہو گئے۔ اس طرح پاکستان نے اپنا ایک بہادر بیٹا کھو دیا۔ آج اگر بلوچستان میں امن ھے۔ پاکستان کا جھنڈہ لہراتا ھے اور قومی ترانہ پڑھا جاتا ھے۔ تو اس کے پیچھے سراج رئیسانی جیسے مجاھدوں کا ہاتھ ھے۔

Leave a Comment