تم فکر مت کرو، وہ سب دیکھ رہا ہے

تم فکر مت کرو، وہ سب دیکھ رہا ہے

بی کیونیوز! آج میری کزن کی شادی ہے. میں بہت خوش ہوں کیونکہ یہ میری فیورٹ کزن کی شادی ہے اور ہے بھی ایک شاندار سے ہوٹل میں. میں نے تو امی کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں تمام جوڑے اپنی پسند کے لوں گی. چاہے جنتے بھی مہنگے آئیں. خیر امی نے کچھ نہیں کہا. ویسے بھی ہم ایک کھاتے پیتے گھرانے کے ہیں. ابا باہر گاڑی نکالے کھڑے ہیں اور چند منٹ بعد ہمیں “جلدی آؤ” کی آواز لگاتے ہیں. لیکن اف میرا آئی لائنر ہی سہی سے نہیں لگا رہا. ابھی امی سے بھی سلوتیں سننے کو ملیں ہیں کیونکہ

وہاں بارات پہنچ چکی ہے- خیر اللہ اللہ کر کے میرا لائنر لگ ہی گیا- پھر میں جلدی سے اپنا قیمتی لہنگا سنبھالتی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی- گاڑی سڑک پر اپنی مناسب رفتار میں رواں دواں ہے- چھوٹے بھائی نے اونچی آواز میں ایک مشہور گانا لگا دیا ہے جو ہم سب ساتھ ساتھ گنگنا رہے ہیں- ہماری گاڑی اشارے پر آکر رک جاتی ہے- اچانک میری نظر فٹ باتھ پر کھڑے ایک میلے کپڑے پہنے بچے پہ جاتی ہے- وہ بچہ اپنی آنکھوں میں حسرت سموئے ایک جگہ کو تک رہا ہے-میں نے اس کی نظر کا تعاقب کیا تو وہ ایک پھل والی ریڑھی کو دیکھ رہا تھا- پتا نہیں کیوں میرا دل بہت اداس سا ہوا- لیکن پھر سب کچھ نارمل ہو گیا کیونکہ گاڑی آگے نکل گئ اور گانے کی آواز گاڑی میں پھر سے گونجنے لگی- ہوٹل واقعی میں بہت شاندار تھا- جگہ جگہ فانوس لگے تھے- اسٹیج تو اس سے بھی زیادہ زبردست تھا- لیکن اب مجھے صرف کھانا کھلنے کا انتظار ہے- ٹھیک ایک گھنٹے بعد میرا انتظار ختم ہوا اور کھانا لگ گیا- میں چاولوں سے بھرا چمچ اپنے منہ میں رکھ رہی تھی جب ایک غیر معمولی منظر پر نظر پڑی- ایک ویٹر اپنے سامنے کھڑے دو بچوں کو بازووں سے پکڑ کر باہر نکال رہا تھا جبکہ بچے اسے التجائی نظروں سے دیکھ رہے تھے- میں تجسس کی ماری اپنی جگہ سے اٹھی اورا ن کے قریب گئی لیکن وہ باہر نکل چکے تھے- میں باہر کی طرف گئی تو وہ ابھی مین گیٹ پر ہی کھڑے تھے- بچہ اپنے ساتھ کھڑی بچی سے کچھ کہہ رہا تھا جو اس سے تین سال بڑی لگتی تھی- “آپی یہ لوگ کتنے خوش قسمت ہے نا ان کو اتنے اچھے اچھے کھانے مل رہے ہیں اور ہم نے تو صبح سے کچھ نہیں کھایا” بچے نے کہا- “تمھیں پتا ہے عبداللہ ان کا حساب بھی اتنا ہی بڑا ہوگا تم فکر مت کرو وہ دیکھ رہا ہے ہمیں رزق وہی دے گا ہم تو بس اپنی کوشش کر سکتے ہیں” اور اس کے بعد ایک نوالہ بھی میرے حلق سے نہیں اترا تھا-

Leave a Comment