پاکستان کو آئین نے نہیں بلکہ پاک فوج نے جوڑ کر رکھا ہوا ہے

پاکستان کو آئین نے نہیں بلکہ پاک فوج نے جوڑ کر رکھا ہوا ہے

بی کیو نیوز! سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے شمالی وزیر ستان میں آپریشن دہشتگردی کیخلاف جنگ کا ایک تسلسل ہے۔ پاکستان اگر شام، عراق، افغانستان، لیبیا نہیں بنا تو یہ اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے ایک کمٹمنٹ ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں انہوں نے کہا بعض حکومتوں نے تو اس میں رکاوٹیں ڈالی ہیں اور بعض نے برائے نام مدد کی۔ نوازشریف نے کراچی میں کچھ مدد کی، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ پیپلز پارٹی رکاوٹیں ڈالتی رہی۔ وہ رینجرز کو ایکسٹینشن ہی نہیں دیتی تھی۔ پاکستان کو آئین نے نہیں

جوڑ رکھا بلکہ آئین پر تو ہم عمل ہی نہیں کرتے۔ اس ملک کو فوج نے جوڑ رکھا ہے ورنہ سیاستدانوں کی غیر ذمہ داری کے واقعات روز کتنے ہوتے ہیں۔ معیشت جب بھی سنوری، فوج نے سنواری ہے۔ سیاستدانوں کے دور میں تو اس سے زیادہ سنورنی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں ہوا۔ کھوکھر پیلس آپریشن کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا یہ ایک محدود سا آپریشن ہے۔ مریم نواز کو یہ بیان بالکل نہیں دینا چاہئے تھا۔ دوسرے لیگی لیڈروں کو اس کا دفاع نہیں کرنا چاہئے۔ ہر شخص جانتا ہے یہ قبضہ گروپ ہے۔ ان کی ایک عمارت تو سپریم کورٹ نے گرا دی تھی۔ عمران خان نے اب تہیہ کرلیا ہے باوجود بہت سی مجبوریوں کے، اگر عمران خان کو سینٹ میں اکثریت مل گئی تو قبضہ گروپوں پر بڑا سخت ہاتھ ڈالے گا۔ لاہور اور کراچی ائیر پورٹ گروی رکھ کر آصف زرداری نے قرضے لئے، موٹروے گروی رکھ کر نواز شریف نے قرضے لئے۔ اسی پیٹرن پر اس حکومت نے قرضے لئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 8 ہزار ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوسکتا ہے مگر وہ نہیں ہوتا۔ عقیل کریم ڈھیڈی نے ایک دن مجھ سے کہا اس ملک کو ہم نے برباد کیا۔ اس نے کہا بزنس مین ٹیکس دیتے ہی نہیں۔ جاگیر دار اسمبلیوں میں بیٹھا ہے۔ پچاس کروڑ کا آموں کا باغ فروخت کرتا ہے مگر وہ کوئی ٹیکس نہیں دیتا۔ 40 سے پچاس لاکھ تاجر ٹیکس نہیں دیتے۔ 50 سے 60 فیصد اکانومی بلیک ہے۔

Leave a Comment