پردے کا حکم، قرآن و حدیث کی روشنی میں

پردے کا حکم، قرآن و حدیث کی روشنی میں

بی کیونیوز! احکام میں سب سے اہم پردے کا حکم ہے جو عورت کو دیا گیا ہے اور یہ اس کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس حکم کی رو سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کا سارا جسم قابلِ ستر ہے۔ یعنی غیر محرموں کے سامنے وہ ہاتھ اور چہرے سمیت جسم کا کوئی حصہ ننگا نہیں کرسکتی۔ گویا اس کا لباس اس طرح کا ہونا چاہیے کہ اس حکم کے تقاضوں کو پورا کرے۔ اس اعتبار سے عورت کے لیے 3 صورتیں بنتی ہیں۔ دو صورتوں کا تعلق گھر کے اندر سے ہے اور ایک کا تعلق گھر کے

باہر سے۔ گھر کی چار دیواری کے اندر ایک صورت تو یہ ہے کہ عورت مشترکہ خاندان (جوائنٹ فیملی سسٹم)میں رہتی ہے، جہاں اس کے دیور، جیٹھ اور ان کی جوان اولاد بھی ہوتی ہے۔ شرعی لحاظ سے چونکہ ایک عورت کو خاندان کے ان تمام افراد سے پردہ کرنے کا حکم ہے، ایسی صورت میں عورت ہر وقت بڑی چادر یا برقعے میں تو ملبوس نہیں رہ سکتی، کیونکہ گھر میں رہتے ہوئے اس نے سارے امورِ خانہ داری بھی انجام دینے ہوتے ہیں۔ اس لیے افرادِ خاندان سے پردے کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کا لباس ان شرائط کے مطابق ہو: اس لباس سے اس کے بازو ننگے ہوں اور نہ اس کی چھاتی اور نہ اس کے پیر ننگے ہوں، اسی طرح اس کا سر بھی ننگا نہ ہو، بلکہ اس کے سر پر ایسا موٹا دوپٹا یا چھوٹی چادر ہو کہ دیور، جیٹھ وغیرہ کی موجودگی میں چہرے پر پلّو لٹکا کر اپنے چہرے کو چھپاسکے۔ ایسا باریک لباس نہ ہو جس سے اس کا جسم جھلکے اور اس کے حُسن کی چغلی کھائے۔ لباس ڈھیلا ڈھالا ہو۔ اس طرح تنگ و چست نہ ہو جس سے اس کے سارے خدوخال نمایاں ہوں۔ لباس زیادہ شوخ اور بھڑکیلا نہ ہو، جسے دیکھ کر کسی کے جذبات برانگیختہ ہوں۔ اس انداز کے لباس اور احتیاط سے مشترکہ خاندان میں پردے کے ضروری احکام پر عمل ہوجاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گھر میں رہتے ہوئے دیور، جیٹھ، بہنوئی وغیرہ سے پردہ کس طرح ممکن ہے؟ چنانچہ اس کو ناممکن یا مشکل سمجھتے ہوئے اکثر گھروں میں مذکورہ افراد سے پردہ نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ شریعت کے احکام ناممکن العمل نہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ (آیت286) میں فرماتا ہے: ’’اللہ کسی شخص کو اُس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔‘‘ یہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت و شفقت اور اس کا فضل و کرم ہے۔ اگر خاندان کے ان مذکورہ افراد اور دیگر غیر محرموں سے پردہ کرنا ناممکن ہوتا تو اللہ تعالیٰ کبھی عورت کو ان سے پردہ کرنے کا حکم نہ دیتا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس حکم کا صدور ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس پر عمل کرنا ممکن ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بھی

اصول، قانون اور ضابطے کی پابندی میں انسان کو یقینا کچھ نہ کچھ مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔ پھر دین و دنیا کا کون سا ایسا کام ہے جس میں محنت و مشقت نہ ہو ؟ یقینا یہ بھی ایک مشقت طلب کام ہے، لیکن اللہ کی رضا کے لیے اس مشقت کو برداشت کرنا ہی تو شیوہ مسلمانی ہے اور اس مشقت ہی کی وجہ سے آخرت کا اجر و ثواب ہے اور انعام میں جنت ملے گی۔ ان شاء اللہ۔ لہٰذا ہر مسلمان گھرانے کو مذکورہ لباس اور پردے کا اہتمام کرنا چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی سعادت ہے۔

Leave a Comment