چشمِ تصور

چشمِ تصور

بی کیونیوز! میرا دل چاہتا ہے میں آج ذرا خود کو چشمِ تصور میں لے جاؤں اور میرے یہ ہونٹ اتنے مقدر والے ہو جائیں کہ محبوبِ کائنات حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے عرش اعظم کو چھونے والے قدموں کا بوسہ لے سکیں مجھے یہ سعادت حاصل ہو جائے تو میں اپنے مقدر پر والہانہ وجد کروں لیکن میں چشم تصور میں حضرت سیدہ دائی اماں حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا سے سوال پوچھ رہا ہوں آپ رضی اللہ عنہا کے مقدروں کا ستارہ کس بام عروج پر ہو گا. جب سب جہانوں کے سردار

حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم آپ رضی اللہ عنہا سے لپٹتے ہوں گے؟ اور آپ رضی اللہ عنہا محبوب رب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے رخُسار مبارک کو بوسہ دیتی ہوں گی. حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی اور بیٹے کے مقدروں کا ستارا کس بامِ عروج پر ہوگا. جب بچپن میں محبوبِ کائنات حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم ان کے ساتھ بنو سعد کی وادیوں میں کھیلا کرتے ہوں گے. میں اپنی آنکھوں میں آنسؤں کی سوغات لیئے طائف مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلی کوچوں سے پوچھتا ہو ذرا اپنی عظمت کے ترانے تو سناؤ تمہیں یٰس صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے نعلین نے چھوا ہے اس در کی مٹی کے ذرے کیسے میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے قدموں کے گرد جھومہ کرتے ہوں گے؟ کاش میں پوچھ سکتا طائف کی وادی بنو سعد کی ان بکریوں سے جن کو محبوبِ رب کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا کھلونا بننے کا شرف ملا تھا. میں ان سے پوچھتا تم نے اپنی قسمت کس دکان سے خریدی تھی؟ میرا دل چاہتا ہے میں اپنی جان کو لاکھوں بار قربان کر کے وہ ٹاٹ کے ٹکڑے کا نصیب خرید لوں. جس کو جلا کے میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے زخم پر مرحم بنا کے لگایا گیا تھا آمین ثم آمین یا رب العالمین صدقے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آل و اولاد دھن دولت جان و دل آپ کے قدموں پہ قربان کروڑوں درود و سلام آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر الهم صلي وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليما كثيرا

Leave a Comment