کبھی سوچتی ہوں بہت اکیلی ہو گئی ہوں کوئی پاس نہیں رہا، تو اچانک کہیں سے ندا آتی ہے “تم مجھے پکارو میں تمھاری پکار کوسنوں گا”

کبھی سوچتی ہوں بہت اکیلی ہو گئی ہوں کوئی پاس نہیں رہا، تو اچانک کہیں سے ندا آتی ہے "تم مجھے پکارو میں تمھاری پکار کوسنوں گا"

بی کیونیوز! کبھی سوچتی ہوں بہت اک-ی-لی ہو گئی ہوں کوئی پاس نہیں رہا، تو اچانک کہیں سے ندا آتی ہے “تم مجھے پکارو میں تمھاری پکار کوسنوں گا” پھر اس ندا پر میں اپنی زندگی کے سارے مسئلے اک پوٹ-ل-ی میں باندھتی ہوں اور اٹھا کے اس مصور کے حضور حاظر ہو جاتی ہوں، جو اک پتھر کو حج-رہ اس-ود بنانا جانتا ہے. میں بولتی ہوں وہ سنتا ہے، وہ سنتا جاتا ہے سنتا جاتا ہے. کبھی بھی وہ مجھے خاموش ہونے کو نہیں کہتا، وہ کبھی یہ نہیں کہتا بس کرو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے. میں سنا سنا کے تھک جاتی ہوں

وہ سن سن کے نہیں تھ–ک-تا. پھر جب میں تھک کر آنکھوں سے ٹپ-کتے آن-س-وؤں سے باتیں کرتی ہوں تو وہ مجھے دلاسا دیتا ہے. “عنقریب تمھارا رب تمھیں اتنا دے گا کے تم راضی و خوش ہو جاؤ گے”. تو اس ندا پر میرا سر ن-دام-ت سے جھک جاتا ہے. اور کتنا دے گا یا رب العلمین..؟ لے لے کر میری جھولی بھر گئی لیکن دے دے کر تیرے خزانے ختم نا ہوئے. تو انتہائی محبت سے وہ کہتا ہے اور اگر تم شکر کرو گے تو ہم تمھیں اور دیں گے. بس پھر میری ذات ہوتی ہے اور میرا رب میں جو رب کو اپنی پریش-ان-ی-اں سنانے بیٹھی تھی تو گنتے گنتے پتا چلتا میری پریشانیوں سے کہیں زیادہ تو رب کی نعمتیں ہیں میرے پاس. تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھ-ٹلاؤ گے کوئی پھر مجھے دلاسہ دیتا ہے. میں گنتی جاتی ہوں گنتی جاتی ہوں، نعمتیں ہیں کے ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ہیں. میرے رب میں نے ہر لمحہ تیری نافرمانی کی ہر لمحہ تیری نا شکری کی تو محھ سے ناراض ہو گا نا…!!! میں پھر ٹوٹ پڑتی ہوں ندام-ت سے گر پڑتی ہوں تبھی پھر اس کی محبت مجھے تھام لیتی ہے. “تمھارے رب نے تم کو ت-ن-ہا نہیں چھوڑا اور نا ہی وہ تم سے بے زار ہوا ہے” وہ قدم قدم پر میرے ہر آن-سو-ؤں پر میری ہر ہر پکار پر مجھے سنتا ہے، مجھے جواب دیتا ہے. اور مجھے احساس دلاتا ہے دیکھو تم تنہا نہیں ہو، میں تمھارے ساتھ ہوں، تمھیں سنتا بھی ہوں اور جواب بھی دیتا ہوں.

Leave a Comment