کیاموبائل سےقرآن پاک پڑھنےکےلیےوضوکرناضروری ہے؟ پڑھئےعلماءکرام اس بارےمیں کیاکہتےہیں؟

کیاموبائل سےقرآن پاک پڑھنےکےلیےوضوکرناضروری ہے؟ پڑھئےعلماءکرام اس بارےمیں کیاکہتےہیں؟

بی کیو نیوز! کیاموبائل سےقرآن پاک پڑھنےکےلیےوضوکرناضروری ہے؟ پڑھئےعلماءکرام اس بارےمیں کیاکہتےہیں؟ جن موبائلوں میں قرآن مجید کتابت یا آڈیو فائلوں کی صورت میں ہے، ان کا حکم مصحف یعنی قرآن مجید والا نہیں ہے۔ اس لیے موبائل میں موجود قرآن مجید کو بغیر وضو کے چھوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انہیں لیکر بیت الخلاء میں بھی جا سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موبائل میں قرآن مجید کی کتابت ایسے نہیں ہوتی جیسے کہ کتابی شکل میں

ہوتی ہے. بلکہ یہ لہریں ہوتی ہیں جو زائل بھی ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ موبائل قرآن مجید کی کتابت عارضی ہوتی ہے مستقل نہیں۔ ویسے بھی موبائل میں قرآن مجید کے ساتھ اور بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ شیخ عبد الرحمن بن ناصر سے استفسار کیا گیا کہ بغیر وضو کے موبائل سے قرآن مجید دیکھ کر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا”تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں۔ درود و سلام ہوں سب سے آخری پیغمبر پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اما بعدیہ بات واضح ہے کہ زبانی تلاوت کرنے کیلیے وضو کی شرط نہیں لگائی جاتی، بلکہ جنابت کی حالت میں بھی زبانی تلاوت کی جا سکتی ہے۔ تاہم زبانی تلاوت کرتے ہوئے بھی با وضو ہونا افضل اور بہتر ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے اور باوضو ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا قرآن مجید کی کامل تعظیم میں شامل ہے۔ جبکہ قرآن مجید پکڑ کر تلاوت کرنے کیلیے مطلق طور پر با وضو ہونا شرط ہے. جیسے کہ مشہور حدیث میں ہے کہ (قرآن مجید کو با وضو شخص ہی ہاتھ لگائے) اسی طرح صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بھی اس بارے میں آثار منقول ہیں. اسی بات کے اہل علم قائل ہیں کہ بے وضو کی حالت میں قرآن مجید کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے. چاہے تلاوت کیلیے ہاتھ لگانا مقصود ہو یا کسی اور مقصد سے. اس بنا پر موبائل یا دیگر جدید آلات جن میں قرآن مجید ریکارڈ ہوتا ہے. ان کا حکم مصحف والا نہیں ہے. کیونکہ ان آلات میں قرآن مجید کے حروف کی ماہیت ایسے نہیں ہوتی، جیسے کہ مصحف میں ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ موبائل میں قرآن مجید لہروں اور شعاعوں کی شکل میں ہوتا ہے. جن سے ضرورت کے وقت قرآن مجید کی شکل بن کر عیاں ہوتی ہے. لہذا اگر قرآن مجید کھول کر کوئی اور پروگرام کھول لیا جائے تو قرآن مجید اسکرین سے غائب ہو جاتا ہے. اس لیے موبائل کو یا کیسٹ جس میں قرآن مجید ریکارڈ ہے، ہاتھ لگایا جا سکتا ہے. اسی طرح موبائل سے قرآن مجید کی تلاوت کرنا بھی جائز ہے. چاہے وضو نہ بھی ہو” انتہیم اخوذ از ویب سائٹ “نور الإسلام” اسی طرح شیخ صالح الف-وزان سے استفسار کیا گیا “مجھے قرآن مجید پڑھنے کا بہت شوق ہے، عام طور پر میں مسجد میں جلدی پہنچ کر اپنے جدید

ترین موبائل سے قرآن مجید نکال کر پڑھنا شروع کر دیتا ہوں، میرے موبائل میں مکمل قرآن مجید ہے،بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ میرا وضو بھی نہیں ہوتا تو پھر بھی میں اپنے موبائل سے قرآن مجید کی تلاوت کر لیتا ہوں. تو کیا موبائل سے تلاوت کرتے ہوئے بھی با وضو ہونا ضروری ہے؟”تو انہوں نے جواب دیا:”یہ لوگوں میں موجود آرام پسندی رویہ کے سبب ہے. کیونکہ اللہ کا شکر ہے کہ بہترین پرنٹنگ والے قرآن مجید مساجد میں موجود ہیں. اس لیے موبائل سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی مسجد میں ضرورت نہیں ہے. تاہم اگر ایسا ممکن ہو گیا ہے تو ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کا حکم بھی مصحف والا ہوگا. مصحف کو صرف با وضو شخص ہی ہاتھ لگا سکتا ہے. جیسے کہ حدیث میں ہے کہاسے صرف با وضو شخص ہی ہاتھ لگائے، جبکہ موبائل کو مصحف نہیں کہا جا سکتا۔” موبائل سے قرآن مجید کی تلاوت میں حائضہ خواتین کیلیے بھی آسانی ہے. اسی طرح ان کیلیے بھی آسانی ہے، جن کیلیے قرآن مجید ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا مشکل ہے. یا ایسی جگہ پر انسان موجود ہو جہاں پر وضو کرنا مشکل ہے. کیونکہ موبائل سے تلاوت کرتے ہوئے با وضو ہونا شرط نہیں ہے. جیسےکہ اوپر بتایا گیا ہے. واللہ اعلم باالصواب

Leave a Comment