کیا اسلام ترقی کا مخ-الف ہے؟

کیا اسلام ترقی کا مخ-الف ہے؟

بی کیونیوز! اسلام نہ صرف جدید کاری کو قبول کرتا ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے، صرف جدیدیت کے لا-دین اور مادہ پر-ست مندرجات کو ہضم نہیں کرپاتا۔ جدیدیت کے بے مہار اسراف و تبذیر، یا ایسی حدود نا آش-نا انفرادیت کو جو سوسائٹی کی ترجیحات کو خاطر میں نہیں لاتی، اسی طرح سوقی-انہ باز-اری پن اور بہی-مانہ نفس پرس-تی کی علم بردار مغربی تاجرانہ ثقافت کو اسلام ناقابل بردا-شت سمجھتا ہے۔ شر-اب نو-شی، ن-شہ با-زی، بے مہار ج-نسی طرز عمل، غیر شادی شدہ ماؤں اور نا-جا-ئز اولاد کی

بھرمار، جن-سی امر-اض خب-یثہ، برہن-گی کا رواج اور نف-سی-اتی امراض۔ یقینا یہ سب کچھ جدیدیت کا کوئی خوبصورت روپ نہیں دکھاتے۔ مسلمان معاشرے میں یہ ناہن-جار جدیدیت بالکل بار نہیں پاتی اور مرد-ود سمجھی جاتی ہے، اب کسی کا دل چاہے تو اسے “تن-گ نظ-ری” کہہ لے یا “عقل پر-ستی” سے اجتناب۔ اگر جدیدیت سے مراد جدت پس-ندی اور نئے تخلیقی افق ہیں یا اس سے مراد حسن کارکردگی ہے جس سے معاشرہ کی پیداواری صلاحیت بڑھے یا یہ کہ جدیدیت سے مراد انتظام انصرام کے وہ مختلف النوع نظام ہیں کہ جن سے یہ اہداف حاصل ہوسکیں تو پھر اسلام کو اس سے کوئی ضد نہیں۔ اسی طرح جدیدیت اگر سائنس کی افزودگی اور نمو کا انجن سمجھتی ہے یا خالص عقلیت کا تقاضا کرتی ہے تو اسلام کو یہ بھی قبول ہے۔ شرط صرف ایک ہے کہ جدیدیت اس الہامی دائرے کے اندر رہ کر یہ ساری تگ و تاز کرے جس کا احترام ایک مسلمان معاشرہ لازمی قرار دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے جدیدیت پسند اس قسم کی کسی جدیدیت سے واقف نہیں بلکہ جدیدیت اور ترقی پسن-دی اسکو سمجھتے ہیں جسکا ہم نے شروع میں تذکرہ کیا۔ انکے نزدیک جدیدیت اور مغرب-یت لازم ملزوم ہیں اور کسی معاشرے کے جدید بننے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مغرب-یت کو اپنائے۔ چونکہ اسلام اس ما-درپ-در آزاد مغرب-یت بنام جدیدیت کا مخالف ہے اس لیے یہ اسلام کو اپنی ان حی-وا-نی خواہشات کے پورا ہونے میں رکاوٹ سمجھتے اور پھر اس کو بد-نام کرنے اس کی توہ-ین و تحق-یر کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ان کے علاوہ کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو علمی لائن سے ہمارے معاشرے میں لادی-نیت اور با-طل نظاموں کی قدروں کی کاشت کرنے میں مصروف ہیں ان حضرات کی کوشش یہ ہے کہ وہ جدیدیت کی اس غیر اسلامی فکر اور منہج علم و کلچر کو اس طرح مسلمان معاشرے میں پیش کریں کہ لادی-نیت بھی چھپ جائے اور مقصد بھی پورا ہوجائے.

Leave a Comment