کیا بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کی تاریخ اور فضائل

کیا بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں قربانی کی تاریخ اور فضائل

بی کیونیوز! قربانی کی تاریخ اور فضائل ۔۔۔!!!! قربانی اہم مالی عبادت اور شعائر اسلام میں سے ہے۔ اسی لئے اس عمل کو بڑی فضیلت اور اہمیت حاصل ہے، بارگاہ الہی میں قربانی پیش کرنے کا سلسلہ سیدنا آدم علیہ السلام سے ہی چلا آ رہا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورت المائدہ میں سیدنا آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل و قابیل کا قصہ ذکر فرمایا ہے کہ دونوں نے اللہ تعالی کے حضور قربانی پیش کی، ہابیل نے عمدہ دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار یعنی غلہ پیش کیا۔ اس وقت قربانی قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ

آسمان سے ایک آگ آ کر قربانی کو کھا لیتی، چنانچہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھا کیا اور قابیل کی قربانی وہیں پڑھی رہ گئی، یوں وہ قبولیت سے محروم ہو گئی. قربانی کا عمل ہر امت میں مقرر کیا گیا چنانچہ سورت الحج آیت نمبر 34 میں ارشاد ربانی ہوتا ہے کہ (ترجمہ !) اور ہم نے ہر اُمت کیلئے قربانی اس غرض کیلئے مقرر کی ہے کہ وہ مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے اُنہیں عطا فرمائے ہیں۔ البتہ اس کے طریقے اور صورت میں کچھ فرق ضرور رہا ہے۔ انہی میں سے قربانی کی ایک عظیم الشان صورت وہ ہے جو اللہ تعالی نے امت محمدیہ ﷺ کو عیدالاضحٰی کی قربانی کی صورت میں عطا فرمائی ہے کو کہ حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام کی قربانی کی یادگار ہے قربانی کرنا حکم ربانی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی قربانی کو عبادت سمجھا جاتا تھا مگر جانوروں کو بتوں کے نام پر قربان کرتے تھے، اسی طرح آج تک دوسرے مذاہب میں قربانی مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے، مشرکین بتوں کے نام پر اور عیسائی سیدنا عیسٰی علیہ السلام کے نام پر قربانی آج بھی کرتے ہیں۔اللہ تعالی نے سورت کوثر میں حضور نبی کریم ﷺ کو حکم فرمایا کہ اپنے رب کیلئے نماز پڑھیئے اور قربانی کیجیئے۔ یعنی نماز اور قربانی کا عمل اللہ تعالی کی رضا وخوشنودی کیلئے ہے اسی مفہوم کو اللہ تعالی نے سورت انعام میں فرمایا ترجمہ!( کہ آپ ﷺکہہ دیجیئے!)بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

Leave a Comment