کیا غسل کے بعد وضوکرنا ضروری ہے؟

کیا غسل کے بعد وضو کرنا واجب ہے؟

بی کیو نیوز! کیا غسل کے بعد وضو کرنا واجب ہے؟ اس معاملے میں فقہاء میں اختلاف ہے. بعض فقہاء صرف غسل جنابت کی صورت میں وضو لازم نہیں سمجھتے لیکن باقی غسلوں کے لئے وضو ان کے نزدیک پھر بھی ضروری ہے۔ فقہاء کی اکثریت اس بات کی قائل ہے اور معاصرین میں امام خمینی، آیت اللہ خامنہ ای، فاضل لنکرانی وغیرہ اس کے قائل ہیں۔ دوسری طرف فقہاء کا ایک معاصر گروہ اس بات کا قائل ہے کہ غسل جنابت کے علاوہ ہر اس غسل کے لئے وضو کی ضرورت نہیں۔ جن کا استحباب شریعت میں

ثابت ہے، جیسے غسل جمعہ و غسل عیدین وغیرہ ان فقہاء میں آیت اللہ خوئی، سیستانی و ناصر مکارم شیرازی شامل ہیں۔ غالبا آيت اللہ خوئی ہی پہلے فقیہ ہے جنہوں نے یہ فتوی دیا ہےتھوڑا سا اختلاف کی وجہ پر بھی روشنی ڈالوں. اصل میں ہمارے ہاں احادیث میں دونوں باتیں لکھی ہیں یعنی احادیث میں تعارض ہے۔ ایک محمد بن ابی عمیر کی مرسل روایت ہے جس میں معصوم(ع) فرماتے ہیں کہ صرف غسل جنابت ہی وضو سے کفایت کرتا ہے باقی تمام غسلوں کے لئے وضو کی ضرورت ہے۔ اور دوسری طرف چند صحیح احادیث ہیں جن میں درج ہے کہ کسی بھی ثابت شدہ غسل کے لئے وضو کی ضرورت نہیں۔ ہمارے فقہاء نے ہمیشہ پہلی روایت پر ہی عمل کیا جو ابن ابی عمیر کی ہے اور علماء کا ابن ابی عمیر پر سب سے زیادہ بھروسہ ہے، اسی کو شہرت فتوائی حاصل ہے۔ علماء نے دوسری حدیث سے ہمیشہ اعراض کیا اور فقہاء اس اعراض کو اس روایت کے وھن کا سبب سمجھتے ہیں۔ جبکہ آیت اللہ خوئی نے ابن ابی عمیر کی مرسل کا رد کیا کیونکہ وہ مرسل ہے، اور دوسری حدیث کو قبول کیا جس کے روات ثقہ ہیں اور صحیح روایت ہے۔ آیت اللہ خوئی شہرت کو حجت نہیں سمجھتے تھے چنانچہ انہوں نے فتوی دوسری حدیث پر دیا ان کے اتباع میں آیت اللہ سیستانی و ناصر مکارم شیرازی نے بھی ان کے ادلّہ کو قبول کیا اور اس پر فتاوی دیےہیں۔

Leave a Comment