گمراہی کی وجہ سےاللہ تعالی ٰنےاس قوم پربھیانک آندھی کاعذاب نازل کیا، جس کا ذکرقرآن پاک میں 9 مقام پرآیا ہے. مزید پڑھیئے

گمراہی کی وجہ سےاللہ تعالی ٰنےاس قوم پربھیانک آندھی کاعذاب نازل کیا، جس کا ذکرقرآن پاک میں 9 مقام پرآیا ہے. مزید پڑھیئے

بی کیو نیوز! گمراہی کی وجہ سےاللہ تعالی ٰنےاس قوم پربھیانک آندھی کاعذاب نازل کیا، جس کا ذکرقرآن پاک میں 9 مقام پرآیا ہے. مزید پڑھیئے. دو ہزار سال قبلِ مسیح کی بات ہے۔ خلیجِ فارس سے عراق تک کے وسیع و عریض علاقے پر ایک قوم آباد تھی، جسے’’ قومِ عاد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دُنیا بھر کی نعمتوں سے نوازا تھا۔ سرسبز و شاداب باغات، لہلہاتے کھیت و کھلیان، شفّاف پانی کے چشمے، بڑے بڑے شان دارمحلّات، مال و دولت، آسائش و آرائش

کی فراوانی اور بہترین صحت۔ یہ طویل القامت، قوی اور زور آور لوگ تھے۔ اُن کی شان و شوکت، سطوت و جبروت، جسمانی طاقت و صولت نے اُنہیں مغروراورمتکبّر بنا دیا تھا۔ قومِ نوح کی تباہی کے بعد اُن دنوں مَیں( یعنی شیطان) بھی کسی ایسی ہی قوم کی تلاش میں تھا۔ چناں چہ مَیں اپنی پوری جماعت کے ساتھ اُن کے نفسِ امّارہ پر حملہ آور ہوا۔ اپنے بدی کے ہتھیاروں کے ساتھ سب سے پہلے اُنہیں بُت پرستی کی جانب راغب کیا۔ اللہ نے اُن ہی میں سے اپنے ایک نیک بندے، حضرت ھود ؑ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ تاہم اُنھوں نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ مال و دولت، قوّت و شہرت کے نشے میں سرشار قومِ عاد باغی اور سرکش ہو چُکی تھی۔ یہ لوگ بدی کی راہوں میں اِس قدر آگے بڑھ چُکے تھے، کہ اب اُن کی واپسی ناممکن تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اُن پر ہلکا عذاب نازل فرمایا، اُنہیں تین سال کے لیے بارش سے محروم کر دیا۔ اُن کے باغات اور کھیت کھلیان، صحرا میں تبدیل ہوگئے۔ لیکن اُن کی رعونت نے اُنہیں حضرت ھود ؑکی بات نہ ماننے دی۔ پھر اللہ نے آٹھ دن اور سات راتوں تک شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلّط کر دیا۔ یہ آندھی اِتنی خوف ناک تھی کہ انسان و حیوان ہوا میں اُڑتے آسمان تک جاتے اور پھر اوندھے مُنہ زمین پر گر کر فنا ہو جاتے۔ یوں پوری قوم نیست و نابود ہوگئی۔ البتہ حضرت ھود ؑاور اُن کے پیروکار محفوظ رہے۔ قرآنِ پاک کی نو سورتوں میں قومِ عاد کا ذکر ہوا ہے۔

Leave a Comment