گھریلو تش-دد بل غیراسلامی ہیں، بل کی بعض دفعات قرآن و سنت سے مت-صادم ہیں، مرکزی علماء کونسل پاکستان نے اس بل کو معاشرے اورخاندانوں کو تب-اہ کرنے کی سازش قرار دیدیا

گھریلو ت ش د د بل غیر اسلامی ہیں، بل کی بعض دفعات قرآن و سنت سے متصادم ہیں، مرکزی علماء کونسل پاکستان نے اس بل کو معاشرے اورخاندانوں کو تباہ کرنے کی سازش قرار دیدیا

بی کیونیوز! مرکزی علماء کونسل پاکستان نے گھریلو تش-دد بل کو غیر اسلامی قرار دے دیا، گھریلو تش-دد بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے جومنظورہوا ہے اس کی بعض دفعات قرآن و سنت سے مت-صادم ہیں دین اسلام اور پاکستان کی مشرقی روایات کو پس پشت ڈال کر معاشرے اور خاندانوں کو تب-اہ کرنے کی ساز-ش ہے مرکزی علماء کونسل پاکستان حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ اس بل کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل اور علماء کی رائے لی جائے۔ چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان و سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل ختم نب-وت موومنٹ پاکستان

صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نےکہا کہ اس بل میں والدین کا اپنے بچوں کی پرائیویسی یا آزادی میں حائل ہونا ج-رم قرار دیا گیا اوراولاد کے بارے میں ناگوار بات کرنا شک کا اظہار کرنا بھی ج-رم ہو گا۔ اس بل میں معاشی تش-دد کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی کسی بھی قسم کے اختلاف نافرمانی کسی بھی وجہ سے بچے کا خرچہ کم یا بند نہیں کیا جاسکتا، اگرایسا کیا گیا تو یہ ج-رم ہوگا اور اس پر س-زا ملے گی جذباتی، نفسیاتی اور زبانی ہرا-ساں کرنے کی اصطلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔ یعنی کسی بھی بات کو ہرا-سم-نٹ قرار دیا گیا ہے خاوند کا دوسری شادی کی خواہش کا اظہار ج-رم ہو گا اسے گھریلو تش-دد قرار دیا گیا ہے بیوی سے ط-لاق کی بات کرنا بھی ج-رم وس-زا ہو گی اسی طرح کوئی غصے والی بات یا اونچی آواز میں بولنا جو کہ جذباتی نفسیاتی یا زبانی اذیت کا باعث بنے وہ ج-رم تصور ہو گا، گھریلو تش-دد بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہوا ہے یہ بل ایک خوشنما نام خاندانی نظام ہے مگر درحقیقت خونی رشتوں خصوصا والدین اور اولاد میاں بیوی کے درمیان تعلقات خاندانی نظام زندگی کی بنیادیں ہلا دے گا، اسلامی اور مشرقی روایات کو ختم کردے گا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت سے مت-صا-دم کوئی بھی قانون نہیں بن سکتا۔ حکومت فوری طور اس بل پر نظر ثانی کرے صاحبزادہ مولانا زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ بہت افسوس ہے کہ حکومت اور اپوزیشن بعض معاملات میں مغرب کو خوش کرنے کیلئے ایک پیج پر ہیں، اس بل سے خاندانی نظام ختم ہوکر رہ جائے گا، کیا اس معاشرے میں بیٹی بیٹا اپنے ماں باپ کے خلاف جائے گا اس بل کی مختلف شقوں میں ابہام ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے بھی بالکل ایسا ہی قانون پاس کیا ہے جس پر اسلامی نظریاتی کونسل نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Comment