ہم قب-رکی نعمتوں کےبارےمیں بات کیوں نہیں کرتے، آج ہم قب-ر کی نعمتوں کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے

ہم قب-رکی نعمتوں کےبارےمیں بات کیوں نہیں کرتے، آج ہم قب-ر کی نعمتوں کے بارے میں تفصیل سے بات کریں گے

بی کیونیوز! ہم کیوں ق-برکی نعمتوں کےبارےمیں بات نہیں کرتے، ہم یہ کیو‌ں نہیں کہتےکہ وہ سب سے بہترین دن ہوگا۔ جب ہم اپنےرب سے ملیں گے۔ ہمیں یہ کیوں نہیں بتایاجاتا۔ کہ جب ہم اس دنیا سےکوچ کریں گے۔ توہم ارحم الراحمین کےدونوں ہاتھ میں ہوں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک جانور کودیکھا جواپنا پاؤں اپنےبچے پررکھنےسے بچارہی تھی۔ توآپ نےصحابہ سےفرمایا “بےشک ہمارارب ہم پراس ماں سےبھی زیادہ مہربان ہے” کیوں ہمیشہ عذ-اب قب-رکی باتیں ہورہی ہیں، کیوں مو-ت سے ہمیں نفرت دلائی جارہی ہےاور

اس سےڈرایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ ہمیں پختہ یقین ہوگیا۔ کہ ہمارارب ہمیں مرتے ہی ایساعذ-اب دےگا۔ جس کا تصوربھی نہی کیا جا سکتا۔ ہم کیوں اس بات پرمصرہیں کہ ہمارارب ہمیں صرف عذ-اب ہی دےگا۔ ہم یہ کیوں نہی سوچتےکہ ہمارارب ہم پررحم کرے گا۔ ہم یہ بات کیوں نہی کہتے کہ جب ق-برمیں مومن صالح سےمنکرنکیرکی سوال جواب ہوجائےتوہمارارب کہےگا”میرے بندےنےسچ کہا، اس کےلئےجنت کا بچھونا بچھاو، اس کوجنت کےکپڑے پہناؤ اورجنت کی طرف سےاس کےلئےدروازہ کھول دواوراس کوعزت کے ساتھ رکھو۔ پھروہ اپنامقام جنت میں دیکھےگا۔ تواللہ سےگڑ گڑا کر دعا کرے گا: پروردگار قی-امت برپا کرتاکہ میں اطمینان کےساتھ جنت چلاجاوں۔(احمد،ابوداوود) ہم یہ بات کیوں نہی بتاتے کہ ہماراعمل صالح ہم سےالگ نہ ہوگا۔ اور ق-برمیں ہمارامونس اور غمخوار ہو گا۔ جب کوئی نیک آدمی وف-ات پاجاتاہے۔ تواس کےتمام رشتہ دار جو دنیا سے چلے گئے ہوں گے۔ ان کی طرف دوڑیں گےاورسلام کریں گے۔ اس ملاقات کےبارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاکہ “یہ ملاقات اس سے کہیں زیادہ خوشی کی ہوگی جب تم دنیا میں اپنےکسی عزیز سےطویل جدائی کےبعد ملتے ہو۔ اور وہ اس سےدنیا کے لوگوں کے بارے میں پوچھیں گے۔ ان میں سےایک کہےگا۔ اس کوآرام کرنے دو یہ دنیا کےغموں سےآیا ہے۔(صحیح الترغیب لالبانی) مو-ت دنیا کےغموں اورتکلیفوں سے راحت کا ذریعہ ہے۔ صالحین کی مو-ت درحقیقت ان کےلئے راحت ہے۔ اس لئے ہمیں دعاء سکھائی گئی ہے۔ اللھم اجعل الموت راحة لنا من كل الشر. اے اللہ موت کوہمارےلئےتمام شروں سےراحت کاذریعہ بنادے۔ ہم لوگوں کویہ کیوں نہی بتاتے کہ موت زندگی کا دوام ہےاوریہ حقیقی زندگی اورہمیشہ کی نعمتوں کادروازہ ہے۔ ہم یہ حقیقت

کیوں چھپاتے ہیں کہ رو-ح ج-سم میں قی-دی ہےاور وہ مو-ت کےذریعےاس جی-ل سےآزاد ہوجاتی ہےاورعالم برزخ کی خوبصورت زندگی میں جہاں مکان وزمان کی کوئی قید نہیں ہے رہنا شروع کرتی ہے۔ ہم کیوں مو-ت کورشتہ داروں سےجدائی، غم اوراندوہ کےطورپرپیش کرتے ہیں، کیوں نہ ہم یہ سوچیں کہ یہ اپنے آباواجداد، احباب اورنیک لوگوں سےملاقات کا ذریعہ ہے۔ قب-رسا-نپ کا منہ نہیں ہےکہ آدمی اس میں جائگا۔ اورسا-نپ اس کوچباتا رہےگا بلکہ وہ توحسیناوں کاعروس ہے جو ہمارے انتظار میں ہے۔ اللہ سےنیک امید رکھواوراپنےاوپرخوف طاری مت کرو۔ ہم مسلمان ہیں، کا-فرنہیں ہیں۔ اسلئےہم اللہ کی رحمت سے دور نہیں پھینک دیئےگئےہیں۔ اللہ نے ہمیں عذ-اب کے خاطرپیدا نہیں کیا ہے۔ اللہ نےہمیں بتایاہےکہ وہ ہم سے کیاچاہتا ہےاورکیانہیں چاہتا اورہم اچھی طرح جانتےہیں کہ اللہ کی رضاکےکام کون سے ہیں اورناراضگی کےکون سےہیں اورہم دنیا میں آزادہیں جوچاہے کریں۔ “اللھم اجعل خیراعمالناخواتیمھاوخیر اعمارنااواخرھاوخیرایامنایوم ان نلقاک” اےاللہ ہمارےاعمال کاخاتمہ بالخیرکریں، ہماری آخری عمرکوبہترین بنادیں اورسب سے بہترین دن وہ جس دن آپ سے ملاقات ہوگی۔ آمین

Leave a Comment