یورپی پارلیمان نے تجارتی ریلیف کے لیے پاکستان سے توہینِ رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

یورپی پارلیمان نے تجارتی ریلیف کے لیے پاکستان سے توہینِ رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرنے کا مطالبہ کردیا

بی کیونیوز! یورپی پارلیمان میں گزشتہ روز پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میں 662 اور مخالفت میں صرف تین ووٹ آئے۔ اس قرارداد میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان توہین رسالتؐ کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرے۔ پاکستان سے اس قرارداد میں انسداد دہشت گردی کے قانون میں ترمیم کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ توہین رسالتؐ کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نہ کی جا سکے اور ان کیسز میں ملزمان کو ضمانتیں مل سکیں۔ دوسری جانب پاکستان کے

تمام مذاہب و مکاتب فکر کے قائدین اور حکومت پاکستان یورپی یونین کی قرارداد کو مسترد کرتی ہے۔ یورپی یونین کی قرارداد حقائق سے لاعلمی اور بے بنیاد جھوٹے پراپیگنڈہ کی بنیاد پر ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ناموس رسالت و توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے ایک شکایت بھی نہیں، آزاد ی اظہار، آزادی مذہب اور توہین مقدسات کے درمیان فرق واضح ہے۔ پاکستان کے قوانین پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کی ضمانت ہیں۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق کا آئین پاکستان محافظ ہے۔ یورپی یونین ، امریکی مذہبی آزادی کے سفیر کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ صحیح حقائق جاننے کی کوشش کریں، اقلیتوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جو وہ ادا کر رہی ہے۔ سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے جامعہ اسلامیہ اسلام آباد میں 80 کنال پر مشتمل جامعہ مسجد کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں پر 12 ہزار سے زائد نمازی نماز ادا کر سکیں گے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے دورہ سے قبل سعودی عرب کی حکومت کا پاکستان کی عوام اور جامعہ اسلامیہ کے طلباء کیلئے یہ عظیم تحفہ ہے۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علما کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قوانین پر تمام اقلیتیں متفق ہیں، توہین مذہب و توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ بعض افراد اور ادارے غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کر کے پاکستان کے وقار، عزت او رتعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ یورپی یونین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنا وفد حقائق جاننے کیلئے پاکستان بھیجیں۔ پاکستان کی عدلیہ نے آئین و قانون کے مطابق فیصلے کیے ہیں۔ چھ ماہ کے عرصہ کے دوران جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات میں انتہائی کمی ہوئی ہے۔ توہین مذہب و ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال کا ایک کیس بھی نہیں ہے۔ یورپی یونین نے حقائق کے برخلاف قرارداد منظور کی ہے، آزادی اظہار آزادی مذہب کا مطلب

قطعاً دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ پاکستان تمام مذاہب کے مقدسات کے احترام کیلئے عالمی قانون سازی چاہتا ہے۔ مسلمانوں کیلئے تمام انبیا کی ناموس اور آسمانی کتب کا تحفظ عظمت ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان غلیظ اور فساد پھیلانے والی تحریروں ، تقریروں کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتا۔ پوری پاکستان قوم وزیر اعظم پاکستان کے اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالت ؐ کے خاتمے کے موقف کے ساتھ ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کے سروے کے مطابق امت مسلمہ نے عمران خان کو اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالت کے خاتمے کیلئے اپنائے جانے والے موقف پر امت مسلمہ کا ترجمان اور رہنما قرار دیا ہے۔ دریں اثنا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں 80 کنال پر مشتمل جامعہ مسجد ملک سلمان بن عبد العزیز کو اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پاکستان سعودی عرب دوستی اور ایمان عقیدہ کے تعلقات کی عظیم مثال ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان تین روزہ دورے پر سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان کی دعوت پر تشریف لے جا رہے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے سیاسی ومذہبی قائدین سے ملیں گے اور عمرہ ادا کریں گے او رمدینہ منورہ میں رسول اکرم ؐ کے روضہ اطہر پر حاضری دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم دورہ سعودی عرب کے درمیان سعودی عرب کی سیاسی و مذہبی قیادت، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے اسلامک فوبیا، توہین ناموس رسالت ؐ کے حوالے سے عالمی قانون سازی کے بارے میں بھی عملی اقدامات پر بات چیت کریں گے۔

Leave a Comment