یہ جملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جس وقت ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا

یہ جملہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جس وقت ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا

بی کیونیوز! بدر صغریٰ کے موقع پر ابوسفیان نے بعض لوگوں کی خدمات مالی معاوضہ دے کر حاصل کیں اور ان کے ذریعے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیلائی کہ مشرکین مکہ لڑائی کے لئے بھرپور تیاری کر رہے ہیں، تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں۔ بعض روایات کی رو سے یہ کام شیطان نے اپنے چیلے چانٹوں کے ذریعے سے کیا۔ لیکن مسلمان اس قسم کی افواہیں سن کر خوف زدہ ہونے کے بجائے، مزید عزم وولولہ سے سرشار ہوگئے جس کو یہاں ایمان کی زیادتی سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ ایمان جتنا

پختہ ہوگا، جہاد کا عزم اور ولولہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ایمان جامد قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، جیسا کہ محدثین کا مسلک ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتلا ومصیبت کے وقت اہل ایمان کا شیوہ اللہ پر اعتماد وتوکل ہے، اسی لئے حدیث میں بھی حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ پڑھنے کی فضیلت وارد ہے۔ نیز صحیح بخاری وغیرہ میں ہے حضرت ابراہیم (عليه السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا تو آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے۔ عبدالله ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ(القرآن سورۃآل عمران آیۃ 173) ترجمہ : الله تعالی ہمارے لئے کافی ہیں اور بہترین کارساز ہیں یہ جملہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کہا تھا، جس وقت ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور( یہی کلمہ) ہمارے آخری نبی وپیغمبر فداہ اُمّی وابی نبیّنا محمد ﷺنے اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے( مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے) کہا کہ بے شک لوگوں نے تمھارے لیے (فوج)جمع کر لی ہے، سو ان سے ڈرو، تو اس (بات)نے انھیں ایمان میں زیادہ کر دیا اور انھوں نے کہا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (قرآن مجید آل عمران آیۃ 173 ورواہ البخاری:4563) اور ترمذی شریف کی روایت ہے قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا۔ (ترمذی: 2618) ترجمہ: کہو “اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ کیا ہی اچھا کار ساز ہے، اللہ ہی پر ہم توکل کرتے ہیں۔ اس کو کثرت سے پڑھیں ان شاءالله تمام خراب حالات میں الله تعالی آپ کی حفاظت فرمائیں گے اور کثرت کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہر نماز کے بعد اول آخر 11 مرتبہ درود شریف کے ساتھ ایک سو گیارہ 111 مرتبہ پڑھ لیا جائے اور مبلغ وقت مولانا یونس ابن مولانا عمر صاحب پالنپوری ؒ کا تجربہ ہے کہ اس کو کثرت کے ساتھ پڑھنے سے الله تعالی تمام پریشانیاں دور فرمائیں گے۔ تجربہ ہے کہ ہرنماز کے بعد 11 گیارہ مرتبہ حَسْبُنا اللهُ ونِعْمَ الوَکِیل علَی اللهِ تَوکَّلنا پڑھنے سے ہر مشکل کام آسان ہوجاتا ہے اور کوئی مباح کام رکتا نھیں ہے اور اگر کثرت سے پڑھا جائے تو بے شمار فوائد ہیں الله تعالی آپ کا کام اس طرح بنائیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے نیز تمام دنیوی واخروی مقاصد میں کامیابی کا ضامن ہے۔

Leave a Comment