پاکستان میں بھی 2 انبیاءکرام کی ق-ب-و-ر مبارکہ موجود ہیں

پاکستان میں بھی 2 انبیاءکرام کی قبور مبارکہ موجود ہیں

بی کی نیوز! خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق کو سیدھی راہ دیکھانے کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاءکرام مبعوث فرمائے ہیں. جب زمین تخلیق ہوئی۔ انسانوں کو اس پر بسایا گیا۔ انہیں ایک مخصوص طریقہ حیات کے متعلق سمجھایا گیا اور بتا دیا گیا کہ یہ وہ طریقہ ہے جس پر عمل کر کے تم لوگ فلاح پا جاؤ گے۔ جب انسان بھٹکے تو خالق کائنات نے اپنی مخلوق کو سیدھی راہ بتانے کیلئے انبیا و مرسلین

ان پر مبعوث کیے۔ وہ آئے اور اپنے مقرر کردہ وقت تک لوگوں کو سیدھی راہ کی ترغیب دیتے رہے اور پھر دنیائے فانی کو الوداع کہہ کر سفر آخرت اختیار کر لیا۔ آج بھی ان انبیاء کرام کے مزارات مبارک بنی نوع انسان کو سیدھی راہ کی طرف آنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ سرزمین عرب میں کئی انبیاء کے مزارات مقدسہ موجود ہیں لیکن آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے پاکستان میں بھی اللہ تعالیٰ کے دو انبیاء کی ق-ب-ر-ی-ں موجود ہیں، جن میں سے ایک حضرت قنبیط ؑ جو کہ حضرت آدم ؑ کے بیٹے تھے جن کی 270 فٹ لمبی ق-ب-ر ضلع گجرات کے ایک گاؤں بڑیلہ شریف میں موجود ہے جبکہ ایک اور نبی اللہ حضرت حامؑ جو کہ حضرت نوحؑ کے بیٹے تھے جن کی ق-ب-رپاکستان میں 1891 میں حافظ شمس الدین آف گلیانہ گجرات نےضلع جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان کے

گاؤں روال میں دریافت کی۔ ان کے مزار کی لمبائی 78 فٹ ہے جسے 1994 میں حاجی فرمان علی مستری نے ازسرنو تعمیر کروایا جبکہ اس مزار سے متعلق تحقیق 1993 میں ضلع کچہری گجرات کے ایک وکیل ایم زمان کھوکھر نے کر کے تصدیق کی۔ حضرت حامؑ کے مزار مبارک کی خاص بات یہ ہے کہ اس مزار کے اردگرد موجود درخت نہایت بڑے سائز کی چمگادڑوں کا مسکن ہیں جن کو دن کی روشنی میں بآسانی درختوں سے لٹکا دیکھا جا سکتاہے.
حضرت حام علیہ السلام کی ق-ب-ر اور کتبہ
حضرت قنبیط علیہ السلام کے روضے کا اندرونی منظر

Leave a Comment