اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں

اللہ تعالٰی کے سوا کوئی معبود نہیں

﷽ ارشادِباری تعالٰی ہوا: “تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ اللہ بے نیاز ہے نہ اسکی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیداہوا نہ اس کے جوڑ کاہےکوئی”  (سورۃ الاخلاص) دوسری جگہ ارشاد ہوا: ”جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ آپ زندہ اور اوروں کا قائم رکھنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اسی کا ہےجو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں۔ کون ہے وہ جو سفارش کرے اس کے

حکم کے بغیر کہ وہ جانتا ہے جو کچھ اُن کے آگے ہے اور جو کچھ اُن کے پیچھے۔ اور وہ اُتنا ہی پاتے ہیں علم جتنا وہ چاہے. اُس کی کرسی میں سمائے ہوئے ہیں آسمان اور زمین اور اُن کی نگہبانی اُسے بھاری نہیں۔ اور وہی ہے بلند بڑائی والا” (البقرۃ 255) “لا اله الا الله” کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود برحق نہیں۔ یہ کہنا کہ اللہ کے سوا کسی اور معبود کا وجود ہی نہیں، غلط ہے۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگوں نے اللہ کے سوا معبود قرار دے رکھا ہے۔ بہت سے لوگ سورج چاند کی پ-و-ج-ا کرتے ہیں، -ہ-ن-د-و گائے کو م-ع-ب-و-د قرار دیتےہیں، م-ش-ر-ک-ی-ن مکہ بہت سے معبودوں کی عبادت کرتے تھے۔ بعض مسلمان انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کو پکارتے ہیں اور ان سے فریادیں کرتے ہیں۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے کئی معبودان کا ذکر ملتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

سورة هود یہ آیت بہت سے معبودوں کے وجود پر دلالت کرتی ہے کہ وہ معبودان باطلہ ہیں، معبود برحق صرف اور صرف ایک اللہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: سورة لقمان “یہ سب (انتظامات) اس وجہ سے ہیں کہ اللہ حق ہے اور اس کے سوا جنہیں لوگ پکارتے ہیں سب باطل ہیں۔‘‘ لا اله الا الله کا محض یہ مطلب بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق اور رازق نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خالق اور رازق تو م-ش-ر-ک-ی-ن بھی مانتے تھے جیسے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کو خالق و رازق ماننے کے باوجود م-ش-ر-ک-ی-ن “لا الہ الا اللہ” کا انکار کرتے تھے، قرآن مجید میں ہے: سورة الصافات جن لوگوں نے لا الہ الا اللہ کی تفسیر ’’اللہ کے سوا کوئی اور رزاق نہیں ہے‘‘ بیان کی ہے دراصل انہوں نے اپنے ش-ر-ک-ی-ہ عقائد کو رائج کرنے کے لیے چ-و-ر دروازہ کھولنے

کی کوشش کی ہے۔ تاکہ اللہ کو خالق و رازق لا الہ الا اللہ کہہ کر مان لیں مگر عبادت جس کی چاہیں کریں، اللہ کے بندوں اور ان کی ق-ب-ر-و-ں کو پ-و-ج-ن-ا، ان کا طواف کرنا، ان کے لیے نذریں اور چڑھاوے چڑھانا وغیرہ سب کاموں کا جواز نکال لیا جاتا ہے. ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

Leave a Comment