مظلوم کی آہ اور بددعا سے ڈرو

مظلوم کی آہ اور بددعا سے ڈرو۔ ایک ظالم کی حکایت بیان کرتے ھیں کہ فقیروں کی لکڑیاں ظلم سے خریدتا تھا۔ یعنی بہت کم قیمت میں اور امیروں کو دے دیتا تھارشوت میں یا دوسرے معنی زیادہ قیمت دے دیتا تھا۔ ایک اللہ والےنے اس پرگزر کیا اور فرمایا تُو سانپ ہے جس کو دیکھ لیتا ہے کاٹ لیتا ہے یا اٗلو ہے جہاں بیٹھ جاتا ہے اُجاڑ کر دیتا ہے۔ اگر تیرا زور ہم پر چلتا ہےغیب جاننے والے خدا کے سامنے نہیں چلے گا۔ زمین والوں پر ظلم مت

کر ایسا نہ ہو کہ کوئی دعا آسمان پر پہنچ جائے اور تیری بربادی کا سامان ہو جائے۔ ظالم اسکے کہنے سے رنجیدہ ہوا. اورچہرہ اس کی نصیحت سے پھیر لیا اور اس کی طرف توجہ نـہ کی۔ اس کے مرتبہ غرور نے اس کو گناہ پر مجبور کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک رات باورچی خانے کی آگ اس کی لکڑیوں کے ڈھیر میں جا پڑی اور جو کچھ اس کے پاس اس کی ملکیت تھی جلا دی اور نرم بستر سے گرم راکھ پر لا بٹھایا اتفاقاً وہی اللہ والا شخص اس پر پھر گزرا دیکھا اس شخص کو اپنے ساتھیوں کو کیہ رہا تھا نہ معلوم کہاں سے یہ آگ میرے گھر میں لگ گئی۔ اس ولی اللہ نے کہا فقیروں کے دل کے دھوئیں سے یعنی ان کی بد دعا سے۔ فائدہ: اس حکایت کا یہ ہے کہ ظلم بہت بری شے ہے بادشاہوں اور حکام کو ظلم سے بچنا چاہیے۔ عاجزوں کے ستانے کا نتیجہ ایسا ہوتاہے جیسا کہ گزشتہ قصہ کا ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں