Monday , 27 May 2019

The Virtues and Perfection of ALLAH.

خوبیاں اور کمالاتِ بأری تعالٰی:  

تمام خوبیاں اور کمالات اللہ تعالٰی کی ذات میں موجود ہیں۔ اور ہر بات جس میں نقص یا نقصان یا کسی دوسرے کا حاجت مند ہونا لازم آئے اللہ عزوجل کے لئے محال و ناممکن ہے جیسے یہ کہنا کہ نعوذبااللہ ”اللہ تعالٰی جھوٹ بول سکتا ہے اس مقدس پاک بےعیب ذات کو عیبی بتانا درحقیقت اللہ تعالٰی کا انکار ہے۔ خوب یاد رکھیے کہ ہر عیب اللہ تعالٰی کے لئے 
محال ہے اور اللہ تعالٰی ہر محال سے پاک ہے۔

اللہ تعالٰی کی تمام صفات اس کی شان کے مطابق ہیں، بیشک وہ سنتا ہے، دیکھتا ہے کلام کر سکتا ہے ارادہ کر سکتا ہےمگر وہ ہماری طرح دیکھنے کے لئے آنکھ، سننے کے لئے کان کلام کے لئے زبان اور ارادہ کرنے کے لئے ذہن کا محتاج نہیں کیونکہ یہ سب اجسام ہیں اور وہ اجسام اور زمان و مکان سے پاک ہے نیز اس کا کلام، آواز و الفاظ سے بھی پاک ہے۔
قرآن و حدیث میں جہاں ایسے الفاظ آتے ہیں وہ بظاہر جسم پر دلالت کرتے ہیں جیسے ید، وجھہ، استوا وغیرہ۔ ان کا ظاہری معنی لینا گمراہی و بد مذہبی ہے۔ ایسے متشابہ الفاظ کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان کا ظاہری معنی رب تعالٰی کے حق میں محال ہے۔

مثال کے طورپر یَدٌ کی تاویل قدرت سے وجھہ کی ذات اور استواء کی غلبہ و توجہ سے کی جاتی ہے بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ بلا ضرورت تاویل کرنے کی بجائے ان کے حق ہونے پر یقین رکھے۔ ہمارا عقیدہ ہونا چاہیے کہ یَدٌ حق ہے، استواء، حق ہے مگر اس کا یَدٌ مخلوق کا سا یَدٌ نہیں اور اس کا استوا مخلوق کا سا استواء نہیں۔

All the virtues and perfection are present in the presence of Allah. And every thing which is essential to harm or loss or harm of one another, it is impossible for Allah to do so as to say that the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said, “Verily, Allah can tell lies to the Holy Prophet Refuse Remember that every defect is free for Allah, and Allah is free of all wants.
All attributes of Allah are according to its attributes, surely he listens, can see what he can say, but he can listen to us, to listen to the language and the mind to intend to listen Do not be careful because they are all members and they are clean and easy to do with the words and sounds of the world.
In the Quran and Hadith, where such words arise, they apparently point to the body, such as idiot, interpretation, etc. Their appearance is religious and misguided. Such intriguing words are considered because their meaning is meaningful to the Lord Almighty.
For example, the distinction between the subject is governed by the power and authority of the power, but it is carefully to believe that they are right instead of disputing. Our belief must be that it is right, authority, right, but its creation is not of all creatures, and its excuse is not a substitute for creatures.

About admin

Leave a Reply