Monday , 27 May 2019

Real face of Freedom of Woman’s Rights

The wolves evolved in favor of goats. Give the goats free. The goats’ rights are being killed. They have been kept in houses. When a goat heard this voice, he said to the other goats, “Listen, we are going to get rid of our people.” Let’s also go out and get rid of our rights.

Speak an old goat.
Daughter: Have the nails of the senses. These wolves are our enemies, do not come into their talks. But the young goats did not listen to it. And said that it was a modern period of time and your life. Nobody can ever touch anyone’s rights. How is this our enemy? These are talking about our rights. The old goat heard and said: you want to ruin it right now you are safe.
If you talk about them, they will keep you tired. Young goat was angry with this old goat. And it is said that you are old now. Let us live our lives now. What do you know about freedom? Outside fields will be beautiful. Every green garden will be full. Everywhere greenery will be green and happiness will be happy everywhere. Keep your advice with you. Now we can not bear more imprisonment. By saying this, all the freedom of slogans started slogans and hunger strike. When the owner of the sheep saw the situation, So the compulsion opened them openly. The buckets were very happy and ran out of slogans.
But what?
The wolves attacked them and tore the innocent goats. Those who talk about women’s freedom today, in the name of liberal females, are seeking freedom to reach women.
These are thirsty blood of these innocent people. They have the rights of women, but they are worried about their senses and patience thirst.
I wish someone could understand !!!!!!

بھیڑیوں نے بکریوں کے حق میں جلوس نکالا۔ کہ بکریوں کو آزادی دو۔ بکریوں کے حقوق مارے جا رہے ہیں۔ انہیں گھروں میں قید کر رکھا گیا ہے۔ ایک بکری نے جب یہ آواز سنی تو دوسری بکریوں سے کہا کہ سنو سنو ہمارے حق میں جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ چلو ہم بھی نکلتی ہیں اور اپنے حقوق کی آواز اٹھاتی ہیں۔ ایک بوڑھی بکری بولی۔
 بیٹی: ہوش کے ناخن لو۔
یہ بھیڑیئے ہمارے دشمن ہیں ان کی باتوں میں مت آؤ۔ مگر نوجوان بکریوں نے اس کی بات نہ مانی۔ اور کہا کہ جی آپ کا زمانہ اور تھا یہ جدید دور ہے۔ اب کوئی کسی کے حقوق نہیں چھین سکتا۔  یہ بھیڑئے ہمارے دشمن کیسے ہوۓ۔ یہ تو ہمارے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔
بوڑھی بکری سن کر بولی:
بیٹا یہ تمہیں برباد کرنا چاہتے ہیں ابھی تم محفوظ ہو۔ اگر ان کی باتوں میں آگئیں تو یہ تمہیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔ بوڑھی بکری کی یہ بات سن کر جوان بکری غصے میں آگئی۔ اور کہنے لگی کہ اماں تم تو بوڑھی ہوچکی ہو۔ اب ہمیں ہماری زندگی جینے دو۔ تمہیں کیا پتہ آزادی کیا ہوتی ہے۔ باہرخوبصورت کھیت ہونگے۔ ہرے بھرے باغ ہونگے۔ ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہو گی اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوں گی۔ تم اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو۔ اب ہم مزید قید برداشت نہیں کر سکتیں۔
 یہ کہہ کر سب آزادی آزادی کے نعرے لگانے لگیں اور بھوک ہڑتال کر دی۔ ریوڑ کے مالک نے جب ساری صورتحال دیکھی تو مجبوراً انہیں کھول کر آزاد کر دیا۔ بکریاں بہت خوش ہوئیں اور نعرے لگاتی چھلانگیں مارتی نکل بھاگیں۔
مگر یہ کیا؟؟؟
بھیڑئیوں نے تو ان پرحملہ کردیا اور معصوم بکریوں کو چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔
آزادئ نسواں کے نام پر آج خواتین کی آزادی کی بات کرنے والے درحقیقت خواتین تک پہنچنے کی آزادی چاہ رہے ہیں۔
یہ ان معصوموں کے خون کے پیاسے ہیں۔ انہیں خواتین کے حقوق کی بلکہ انہیں اپنی حوس اور غلیظ پیاس کی فکر ہے۔
کاش کہ کوئی سمجھے!!!!!!

About admin

Leave a Reply