حضور ﷺ کی بتا ئی ہوئی دجال کی نشانیاں

Dajjal-Prophet-Muhammad-S.A.W-Gave-A-Description

حضور ﷺ کی بتا ئی ہوئی دجال کی نشانیاں: حضورﷺ کی بتا ئی ہوئی دجال کی نشانیوں  کے مطابق ابو عمامہ سے ایک لمبی حدیث منسوب ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال ظاہر ہونے سے پہلے تین سال لوگ سخط قحط کا شکارہوں گے۔ پہلے سال میں ، اللہ آسمان کو اپنی بارش کا ایک تہائی روکنے کا حکم دے گا، اور زمین کو ایک تہائی فصل روکنے کا حکم دے گا۔ دوسرے سال میں ، اللہ آسمان کو اپنی بارش کا دو تہائی ، اور زمین کو اپنی پیداوار کا دو تہائی روکنے

کا حکم دے گا ، تیسرے سال میں ، اللہ آسمان کو اپنی تمام فصلوں کو روکنے کا حکم دے گا۔  اور بارش کی ایک بوند بھی نہیں برسے گی۔ وہ زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنی تمام فصلیں روک دے اور کوئی پودا بھی نہیں اگے گا ، تمام  جانور تباہ ہوجائیں گے ، سوائے اس کے کہ جو اللہ چاہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا، کہ اس وقت میں لوگوں کو کیا کرنا چاہئیے؟ آپ ﷺ نے کہا، تحلیل ، تکبیر اور تحمید (لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر اور الحمدا للہ)۔ یہ انھیں اسی طرح برقرار رکھے گی جس طرح کھانا ہوتا ہے۔ صحیح الجامع اصغر 787:عبد اللہ ابن عمر نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الاحلاس کا فتناہ بڑے پیمانے پرجنگ ہوگی۔ اس کے بعد، اشعار کا فتنا  اس فتنے کو میرے اہل بیت سے ایک شخص میری طرف منسوب کرتا ہوا بھڑکائے گا، وہ میرے جانب سے اظہار کرے گا لیکن وہ شخص عملا مجھ سے نہیں ہو گا اس لئے میرے تعلق والے تو پر ہیز گا ر لوگ ہیں۔ اس کے بعد لو گ ایک شخص پر متفق ہو جائیں گے جو کہ ثا بت قدم رہنے والا نہ ہوگا۔ وہ تما م امت کو مصیبت میں مبتلا کر دے گا۔ جب لوگوں کو لگے گا کہ فتنہ ختم ہو چکا ہے تب  اس میں مزید اضا فہ ہو گا۔ دوحیمہ کی فتناہ شروع ہو گا۔ اس کو اپنی وحشت کی وجہ سے ‘سیاہ اور سیاہ فتنہ’ کہا جاتا ہے۔ لو گ اس فتنے میں صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کا فر ہو جائیں گے یہاں تک کہ لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ ایک گروہ ایمان والوں کا ہو گا جن میں نفا ق نہ ہو گا اور دوسرا گروہ واضح طور پر منافق لو گوں کا ہو گا جن میں ایمان نہ ہو گا جب یہ صورت حال واقع ہوگی تو تم اس روز یا اس ک دوسرے روز دجال کے منتظر رہنا۔ ابوداؤد، مشکوۃ المصابیح.جلد 4 – 5403 دجال کے نزدیک آنے کی دوسری علامتیں بھی بتا ئی گئی ہیں۔ حضرت معاذ نے بیان کیا

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الۤلہ کے حکم سے مقدس سرزمین پرمسلمانوں کی حکومت ہوگی۔ وہ یہودیوں سے بازیافت کرا لیا جا ئے گا۔ یروشلم کی فتح دجال کے ظہور کی علامت ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن حوالہ سے کہا اے ابن حوالہ! اگر آپ مقدس زمین پر خلیفہ کی نشست کو دیکھنے کے لئے زندہ رہتے ہیں تو ، زلزلے ، آفات اور بڑی آفات آ ئیں گی۔ پھر قیامت میرے اس ہاتھ سے میرے دوسرے ہاتھ تک  کے فاصلے تک لوگوں کےاتنا قریب ہوگی۔ الحکیم المصدرک ، جلد-4 -420 تب مسلمان یہود و نصاریٰ کے خلاف جہاد میں شامل ہونے کے لئے اشعام میں ہجرت کریں گے۔ مدینہ کے لوگ بھی اس میں اللہ کی خاطرشامل ہوں گے ۔ تب یہ جنگ چلتی رہے گی۔ حتی کہ ویرانے کی وجہ سے اس میں جنگلی جانور اور درندے گھومیں گے۔ اورقیامت شروع ہونے تک وہ ویران رہے گا۔ ابو ہریرہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ ویران ہو جائے گا. پھر اس میں پرندے اور درندے آباد ہوں گے۔ الحکیم المصدرک 4-436 نیز عبد اللہ ابن عمرو نے کہاکہ لوگوں میں ایک وقت ایسا آئے گا جب ہر مومن ایشعام  میں ہجرت کرے گا۔ الحکیم المصدرک 4 ۔ 457 دجال کی تباہی جیسا کہ حدیث میں انس نواس ابن سمعان نے نقل کیا ہے، دجال کو عیسیٰ ابن مریم کے ہاتھوں مارا جائے گا۔ دجال کی موت اس وقت ہوگی جب فرشتے اس کو مدینہ کے مضافات سے دور عش شم کی طرف لے جائیں گے۔ اور وہ فلسطین میں لد کے مشرقی دروازے کے قریب ایشعام میں ہلاک ہو جائے گا۔ حضرت المہدی، عیسیٰ علیہ السلام کے آنے سے ٹھیک پہلے حاضر ہوں گے۔ وہ مسلمانوں کی انصاف اور مہربانی کے ساتھ رہنمائی کریں گے اور اللہ کے حکم سے حکومت بنائیں گے۔ ایک بار پھر خلیفہ اور خلافت  ظہور پذیر ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں