جنرل ضیاء الحق کے ظالمانہ دور پر ایک نظر

جنرل ضیاء الحق کے ظالمانہ دور پر ایک نظر

وہ دور جب پاکستان میں بھارتی میڈیا پر پابندی تھی۔ ٹی وی پر صرف ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کر آتی تھیں۔ ٹی وی کی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی تھیں۔ نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت پر ہوتا۔ چوری، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں مکمل امن و امان تھا ۔ ایک روپے کا بن کباب ملتا تھا اور دس روپے کا تو بس ایسا بہترین برگر ملتا تھا کہ کھاتے رہ جاؤ تندور پی روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں ایک مزدور
آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا۔ سرکاری سکول فیس 23 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ سکول فیس سو روپے ماہانہ سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز بچوں کو نہیں پڑھائی جاتی تھی۔ کالج میں فوجی ٹریننگ ہوتی تھی جس میں حصہ لینے والوں کو بیس نمبر اضافی ملتے تھے۔ پاکستانی برانڈ کمپنیوں کو تحفظ حاصل تھا۔ ملک کی اپنی پولکا آئس کریم، آر سی کولا، بنانا ٹوتھ پیسٹ، فوجی کارن فلیکس، ناصر صدیق گلاس، رہبر واٹر کولر، پرافیشنٹ موٹر کار، یعصوب ٹرک وغیرہ عام نظر آتے تھے۔ دور دراز گاؤں میں مسجدیں فجر اور ظہر کے درمیان سکول کے طور پہ استعمال ہوتی تھیں۔ تعلیم بالغاں کیلئے نئی روشنی سکول شام کو کھلتے۔1988 میں جنرل ضیاء الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہو گئے اور بینظیر بھٹو کا دور شروع ہوا۔ سب سے پہلے بینظیر نے ضیاء الحق کی تمام اسکیمیں بند کیں، جن میں مسجد سکول اور نئی روشنی سکول بھی شامل تھے۔ زنا کی سزا حدود آرڈیننس ختم کرا کر ختم کر وادی۔ پھر پاکستان میں زنا عام ہونا شروع ہوا اور تعلیم مہنگی ہوتی گئی اور وہ سب کچھ ہوتا گیا جو آج آپ کے سامنے ہے۔جنرل ضیاء ایک ملٹری ڈکٹیٹر تھا مگر ساری دنیا کا کفر اس سے کانپتا تھا۔ اپنے ملک کےسارے شیاطین اس کے دور حکومت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ضیاء الحق سے اختلاف صرف سیاسی لوگوں کو تھا۔ سماجی سطح پر وہ عوام میں مقبول تھے۔ عوام کو ان سے کوئی شکایت نہ تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں