جنرل پرویزمشرف پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی

جنرل پرویز مشرف پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی

جنرل پرویز مشرف غالباً پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 1965 کی جنگ میں مشرف سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر اگلے مورچے پر لڑا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے کیمپ میں اکیلا رہ گیا تھا۔

دشمن کی توپوں کے گولے اور فائرنگ مسلسل ہورہی تھی لیکن مشرف نے اپنا کیمپ نہ چھوڑا اور مقابلہ کرتا رہا تاکہ بھارتی فوجوں کو یہ نہ لگے کہ اس محاذ پر پاکستانی فوج نہیں رہی ورنہ شاید 65 کی جنگ کا نتیجہ ہمارے لئے کافی پریشان کن ہوتا۔ اس وقت مشرف کو گولیاں بھی لگیں اور توپ کے گولوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے ذخمی بھی ہوا۔ مشرف کو اس کی اس بہادری پر امتیازی تمغہ بھی ملا اور اس کے کمانڈنگ آفیسر کی سفارش پر اسے سپیشل فورس سکول میں بھیجا گیا جہاں سے وہ سپیشل سروسز گروپ میں کمانڈو ٹریننگ حاصل کرکے نکلا۔ مشرف نے 1971 کی جنگ میں بھی پلاننگ کی حد تک حصہ لیا اور لیکن اس کی ڈھاکہ روانگی سے چند گھنٹے قبل معاملہ ختم ہوچکا تھا۔ 1980 کی دہائی میں جنرل ضیا کو سیاچن کیلئے ایک سخت جان کمانڈر کی ضرورت پڑی تو اس کا انتخاب مشرف ہی ٹھہرا۔ مشرف کو درس و تدریس کا شوق تھا جس کی وجہ سے 1980 اور 1990 کی دہائی میں مشرف نے پہلے خود پولیٹیکل سائنس پڑھی اور بعد میں ملٹری نوجوانوں کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ‘جنگی حکمت عملی’ بھی پڑھائی۔ 2001 میں امریکہ کی طرف سے افغان جنگ شروع کرنے کا اعلان ہوا جس کیلئے پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی۔ امریکی وزیرخارجہ نے مشرف کو کال ملائی اور جنگ میں مدد کرنے کی درخواست کی جو کہ مشرف نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر قبول کرلی۔
کہتے ہیں کہ مشرف کی فوری آمادگی سے امریکی وزیرخارجہ اتنا حیران اور خوش ہوا کہ اس نے صدر بش کو آدھی رات کے وقت سوئے ہوئے جگا کر یہ خوشی کی خبر سنائی۔ دوسری طرف پاکستان میں اس وقت نوازشریف کے تنخواہ دار کالم نویس بشمول عرفان صدیقی اور چند دوسرے لفافہ صحافیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انہوں نے مشرف کو ایک کال پر لیٹ جانے والا بزدل کمانڈو جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے یاد کرنا شروع کردیا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی اس وقت ان کالم نویسوں کی باتوں کو سچ جانتے ہوئے مشرف کو بزدل کمانڈر سمجھنا شروع ہوگیا تھا۔ اب آجائیں 2001 میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کی ‘مشرف’ کو کی گئی کال کے اصل احوال پر۔ جب کولن پاول نے مشرف کو کال کرکے افغان وار میں شمولیت کا کہا تو اس وقت مشرف ایک ہاتھ میں سگار تھامے اور سامنے کافی کا کپ رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کی ٹیبل پر’سٹریٹیجی آن وار فئیرز’ کی کتابیں رکھی تھیں اور دماغ میں مستقبل کا نقشہ ترتیب کھینچ رہا تھا۔ کولن پاول کو آپ ایک کیرئیر ڈپلومیٹ سمجھ لیں، باوجود اس کے کہ وہ ملٹری امور میں بھی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا ہوگا لیکن وہ مشرف کی اس فوراً ‘ہاں’ کا بیک گراؤنڈ نہ سمجھ سکا اور افغان وار شروع کردی۔ میرے ذاتی تجزیے کے مطابق امریکہ کو افغانستان میں گھیر کر لانے والا پرویز مشرف ہی تھا۔ طبیعت کے اعتبار سے پرویز مشرف مہم جو انسان ہے۔ اس کے ذہن میں گوریلا وار کا پورا نقشہ ترتیب پاچکا تھا۔
اور اسے لگا کہ وہ افغانستان کو امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا کر رکھ سکتا ہے۔ قدرت ایسے مواقع صدیوں بعد دیتی ہے۔ چنانچہ مشرف نے بھی اسے ایسا ہی موقع جانا اور اپنا داؤ کھیل دیا۔ آج افغان وار شروع ہوئے 16 برس ہوچکے ہیں۔ امریکہ سرکاری طور پر اس جنگ میں 900 بلین ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ اگر تمام اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ تخمینہ ہولناک طور پر 3 سے 5 ٹریلین ڈالرز تک جاپہنچا ہے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہے اور اس سے بھی بڑا نقصان ‘ریپوٹیشن ڈیمیج’ کی صورت میں ہوا کہ افغانیوں جیسے تباہ حال اور پتھروں کے دور میں رہنے والوں سے ابھی تک امریکہ جنگ نہ جیت سکا۔ مشرف کی حکمت عملی کی وجہ سے طالبان جس طرح امریکی راڈارز سے غائب ہو کر منظم ہونا شروع ہوئے۔ اس سے امریکہ بوکھلا کر رہ گیا۔ امریکہ کے پاس وسائل  موجود تھے لیکن ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی، مشرف نے امریکہ کو اپنی ذہانت سے افغانستان میں پھنسا دیا اور اب وہ جو مرضی کرلے، یہاں سے نکل نہیں سکتا۔ آپ افغانستان کو امریکہ کا ‘نوازشریف’ سمجھ لیں، جو ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر کھارہا ہے اور امریکہ کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر آج ٹرمپ پاکستان کے خلاف کاروائی کی دھمکی دیتا ہے تو یاد رکھیں، یہ سوائے دھمکی کے اور کچھ نہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اپنا سب کچھ کھوچکا جبکہ پاکستان کیلئے ابھی بھی پانے کیلئے بہت کچھ باقی ہے۔ اگر کسی کو شک ہو تو جنرل باجوہ کی امریکیوں کے ساتھ جاری کردی کل کی تصویر ملاحظہ کرلیں۔
جنرل باجوہ سر پر ٹوپی رکھے بغیر، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، اپنی پشت کرسی سے لگائے انتہائی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ امریکی مہمان کو دیکھ رہا تھا۔ یہ تصویر پینٹاگون نے بھی دیکھی ہے اور اب وہ ایک مرتبہ پھر اپنا سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ٹرمپ پاکستان کی اہمیت کا اعتراف بھی کرے گا اور اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے تاثر کی نفی کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔ میں نے پوسٹ کے آغاز میں لکھا تھا کہ مشرف وہ واحد جرنیل ہے جس نے تمام جنگوں میں حصہ لیا، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان میں 1965، 1971، سیاچن، روس کے خلاف افغان وار اور کارگل کی جنگیں شامل ہیں۔ ان میں امریکی افغان وار بھی شامل کرلیں۔ جنرل پرویزمشرف یہ جنگ افغانستان کی طرف سے امریکہ کے خلاف لڑا اور اکیلا ہی اس پر بھاری پڑ گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں