حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جو کوئی بسم اللہ شریف کا وردکثرت سے کرے گا تو کتنے فرشتوں کے عذاب سے نجات پاۓ گا جو جہنم میں موکل ہوں گے

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جو کوئی بسم اللہ شریف کا وردکثرت سے کرے گا تو کتنے فرشتوں کے عذاب سے نجات پاۓ گا جو جہنم میں موکل ہوں گے

حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کے جو کوئی بسم اللہ شریف کا ورد ہر روز کثرت سے کرے انیس فرشتوں کے عذاب سے نجات پاۓ گا جو کے دوزخ پر موکل ہیں۔ بسم اللہ شریف کے الفاظ بھی انیس ہیں۔ جب کوئی مشکل در پیش ہو تو بسم اللہ شریف کو با طہارت کامل سات سو چھیاسی بار سات روز تک پڑھے ہر مشکل آسان ہو جاۓ گی۔ اگر ہمیشہ ورد میں رکھے تو کسی اور عمل کی ضرورت ہی پیش نا آۓ گی اور

اگر بعد نماز فجر پندرہ سو مرتبہ جس مطلب کے لئے پڑھاجائے وہ کام ضرورہو گا کیوں کے اکابرین فرماتے ہیں یہی اسم اعظم ہے۔ رزق میں اضافہ کے لیے ترک حیوانات کر کے بسم اللہ شریف کو دریا کے کنارے بعد نماز فجر بارہ ہزار مرتبہ اور بعد نماز مغرب بھی بارہ ہزار مرتبہ پڑھے اول و آخر درود شریف اکتالیس بار پڑھے یہ طریقہ اپناۓ۔ ہر اہم سے اہم حاجت کے لیے مجرّب ہے۔ تسخیر حکام اور حصول دولت کے لیے جمعرات کو روزہ رکھے اور چھوہارے سے افطار کرے اور بعد نماز مغرب بسم اللہ شریف ایک سو اکیس بار پڑھے اور بعد نماز عشاء جب سونے کی نیّت سے لیٹے اور نیّت روزے کی کرے اور بسم اللہ پڑھنا شروع کر دے۔ یہاں تک کے پڑھتے پڑھتے سو جاۓ جب صبح ہو اور جمعہ کا روز ہو تو نماز فجر پڑھ کر بسم اللہ شریف کو ایک سو اکیس بار پڑھے اور اس طرح پڑھے کہ بسم اللہ کو زعفران اور گلاب سے لکھے اس طرح ب س م ا ل ل ہ ا ل ر ح م ن ا ل رح ی م اور موم جامہ کر کے اپنے بازو پر باندھ لے اس عمل شریف کو جو کوئی کرے گا لوگوں کی نظروں میں مثل چودھویں رات کے ہوگا اور وقار اس کا سب کے دلوں میں ہوگا۔ بسم اللہ پڑھنے والے کو چاہیے کہ نقش کی حفاظت اپنی جان سے زیادہ کرے۔