جب حضرت خالد بن ولیدؓ کےانتقال کی خبرمدینہ منورہ پہنچی توہرگھرمیں کہرام مچ گیا

جب حضرت خالد بن والیدؓ انتقال کی خبر مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا

حضرت خالد بن ولیدؓ 592ء کوقریش کے ایک معزز قبیلے بنو محزوم میں پیدا ہوئے۔ آپؓ ان بہادر صحابہؓ میں سے ایک تھے جنہوں نے -ک-ف-ر- کو دیوار سے لگایا تھا۔ اسلام سے پہلے بھی آپؓ چند بہادر جوانوں میں سر فہرست تھے۔ جب 8 ھجری میں مشرف بااسلام ہوئے تو اپنی زندگی اسلام پر قربان کر دی۔ آپؓ کی پوری زندگی گھوڑے کے پیٹھ پر لڑتے گزری۔ بہترین ت-ی-ر انداز

زبردست ج-ن-گ-ج-و، مشہور ن-ی-ز-ہ باز اور ت-ل-و-ا-ر زنی میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ جب میدان میں اترتے تو فتح آپؓ کی قدم چوم لیتی تھی۔ خالدؓ وہ عظیم صحابیؓ ہیں جن کو آپﷺ آپؓ جب شام کی سرزمین میں داخل ہوگئے تو د-ش-م-ن کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ آگے کو بڑھتے گئے، ح-م-ل-ہ کرتے، د-ش-م-ن کا صفایا کرتے، علاقے فتح کرتے اور اسلام کا جھنڈا شام کے کونے کونے میں لہرا کر دم لیا۔ بازین طینی مقابلے میں آئے لیکن ٹک نہ سکے۔ رومیوں نے کوشش کی لیکن آپؓ کو روک نہ سکے۔ غیر مسلم طاقتیں جمع ہوئیں۔ ایک لاکھ فوج نے مل کر چڑائی کی لیکن خالدؓ کے فولادی ارادوں، بلندہمت اور حصلے کوشکست دینے میں ناکام ہوئی۔ شام کی تاریخ رقم ہوئی تو ایک بہادر کے گرد گھومتی رہی۔ وہ نڈر تھا، بے خ-و-ف ہو کر لڑتا، جان ہتیلی پر رکھ میدان میں اترتا، اللہ اکبر کی صدا لگاتا

اور د-ش-م-ن کے پرخچے اڑا دیتا، گھوڑا اس کی محبت، ت-ل-و-ا-ر اس کی اولاد بنی، میدان ج-ہ-ا-د اس کی دنیا اور ج-ہ-ا-د ان کا مشغلہ ٹہھرا، غیر مسلموں سے لڑنے میں وہ بے باک تھا، جب میدان کارزاں میں خ–و-ن کی ندیاں بہتی خالدؓ مسلمانوں کے حوصلے کو سہارا دیتا، حالات کتنے بھی کٹھن ہوتے، خالدؓ کا ایک ایک سپاہی جان ش-ہ-ا-د-ت نوش فرماتے، لیکن خالدؓ کے حوصلے بلندہوتے، اپنے ساتھیوں کو خ-و-ن میں نہاتے دیکھتے لیکن ہمت پہاڑوں کو مات دیتی تھی۔ خالدؓ کا ج-س-م چھلنی چھلنی ہو چکا تھا۔ بہت تک چکا تھا وہ م-و-ت کی تلاش میں نکلتے اور م-و-ت میدان سے دور کھڑی مسکراتی۔ وہ م-و-ت سے گلے لگانا چاہتے تھے اور م-و-ت بھاگ جاتی تھی۔ وہ میدان ج-ہ-ا-د- میں جان لٹانا چاہتے تھے لیکن جان لینے والے خود زندگی سے محروم ہو جاتے۔ جب زندگی کا سفر ختم ہوا

اور بستر م-ر-گ پر آپؓ لیٹے تو فرمایا جب م-و-ت لکھی ہوئی نہ ہو تو ت-ل-وا-ر-و-ں کے سائے میں بھی نہیں آتی۔ فرمایا اگر میدان ج-ہ-ا-د میں م-و-ت ہوتی تو خالدؓ کو بستر پر نہ آتی۔ اشجر بھی آنسو بہارہاتھا۔۔۔ “جب خالد ؓ کی م-و-ت کا پیغام پہنچا ایک کہرام مچ گیا۔ ہر آنکھ اشکبار،دل زخمی اور مسلمان آفسردہ تھے۔ ہر آنکھ آنسو بہا رہی تھی، ہمت کے بندھن ٹوٹ چکے تھے، ضبط ختم ہو چکا تھا۔ زمین بھی رو رہی تھی اور فلک بھی۔ جب خالدؓ کو ق-ب-ر میں اتارا جا رہا تھا تو خالدؓ کا گھوڑا بھی برداشت نہ کر سکا اور ان کے آنکھیں بھی تر ہوگئیں۔ یہ تو خالدؓ کا ساتھی تھا جب م-و-ت سامنے ہوتی اشجر خالدؓ کو ہمت دیتا، خ-و-ن کے دریا میں خالدؓ کے لیے سہارا بنتا، جب م-و-ت رقص کرتی تواشجر کی کھاری ضرب سے زمین کانپنے لگتی۔ اشجر بھی میدان ج-ن-گ کا عادی تھا خالدؓ کے جانے پر یقینا آفسردہ تھا اور آنسو بہا رہا تھا۔

Leave a Comment