حضرت محمدﷺ اور حضرت فاطمہ ؓ کے صبر کا ایک آنسوؤں بھرا سبق آموز واقعہ

حضرت محمدﷺ اور حضرت فاطمہ ؓ کے صبر کا ایک آنسوؤں بھرا سبق آموز واقعہ

بی کیونیوز! حضرت علی ؓ کے گھرمیں سب نے روزہ رکھا حضرت فاطمہ ؓ کے دو چھوٹے بچے انہوں نے بھی روزہ رکھا مغرب کا وقت ہونے والا ہے اور سب کے سب مصلیٰ بچھائے رورو کر دعا مانگتے ہیں۔ حضرت فاطمہ ؓ دعا ختم کر کے گھر میں گئیں اور چار روٹیاں بنائیں اس سے زیادہ اناج گھر میں نہیں تھا۔ پہلی روٹی اپنے شوہر حضرت علی ؓ کے سامنے رکھ دی دوسری روٹی اپنے بڑے بیٹھے حضرت حسن ؑ کے سامنے رکھ دی تیسری روٹی اپنے چھوٹے بیٹے حضرت حسین ؓ کے سامنے اور چوتھی روٹی

اپنے سامنے رکھ لی۔ مسجد نبوی ﷺ میں اذان ہونے لگی سب نے روٹی سے روزہ کھولا مگر وہ فاطمہ ؓ تھیں۔ جس نے آدھی روٹی کھائی اور آدھی روٹی دوپٹے سے باندھنے لگیں یہ معاملہ حضرت علی ؓ نے دیکھا اور کہا کہ اے فاطمہ ؓ تجھے بھوک نہیں لگی ایک ہی تو روٹی ہے اس میں سے آدھی روٹی دوپٹے میں باندھ رہی ہو۔ حضرت فاطمہ ؓ نے کہا اے علی ؓ ہوسکتا ہے میرے بابا جان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو افطاری میں کچھ نہ ملا ہو۔ وہ بیٹی کیسے کھائے گی جس کے باپ نے کچھ نہیں کھایا ہوگا۔ فاطمہ ؓ دوپٹے میں روٹی باندھ کر چل پڑیں ادھر ہمارے نبی محمد مصطفیٰﷺ مغرب کی نماز پڑھ کر آرہے تھے حضرت فاطمہ ؓ کو دروازے پر کھڑادیکھ کر حضور ﷺ کہتے ہیں اے فاطمہ تم دروازے پر کیسے۔ فاطمہ ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول مجھے اندر تو لے چلیں۔ حضرت فاطمہ ؓ کی آنکھ میں آنسو تھے کہا جب افطار کی روٹی کھائی تو آپ کی یاد آگئی کہ شاید آپ نے کھایا نہ ہو اس لئے آدھی روٹی دوپٹے سے باندھ کر لے آئی ہوں۔ روٹی دیکھ کر ہمارے نبی مصطفیٰﷺ کی آنکھوں میں بھی آنسوں آگئے اور فرمایا اے فاطمہ اچھا کیا جو روٹی لے آئی ہو ورنہ چوتھی رات بھی تیرے بابا کی اسی حالت میں نکل جاتی دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر رونے لگتے ہیں اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے روٹی مانگی حضرت فاطمہ ؓ نے کہا بابا جان آج اپنے ہاتھوں سے روٹی کھلاؤں گی پھر اپنے ہاتھ سے کھلانے لگیں روٹی ختم ہوگئی اور حضرت فاطمہ ؓ رونے لگتی ہیں حضور ﷺ نے دیکھا۔ اور کہا کہ فاطمہ اب کیوں روتی ہو فرمایا ابا جان کل کیاہوگا کل کون کھلانے آئے گا کل کیا میرے گھر میں چولہا جلے گا؟ کل کیا آپ کے گھر میں چولہا جلے گا؟ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنا پیارا ہاتھ فاطمہ ؓ کے سر پررکھا اور کہا کے اے فاطمہ ؓ تو بھی صبر کر لے اور میں بھی صبر کرتا ہوں۔ ہمارے صبر سے اللہ امت کے گناہ گاروں کا گناہ معاف کرے گا اللہ اکبر یہ ہوتی ہے محبت جو نبی کریم ﷺ کو ہم سے تھی امت سے تھی ،یہ گناہگار امتی ہم ہی ہیں جن کے لئے نبی کریم ﷺ

بھوکے رہے نبی کی بیٹی بھوکی رہی اور ہم لوگ کیا کررہے ہیں ان کے لئے کل قیامت کے دن میں اور آپ سب لوگ کیا جواب دیں گے ؟سوچئے گا ضرور۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Leave a Comment